23 جولائی 2011
وقت اشاعت: 9:45
رمضان سے پہلے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے باہر
جنگ نیوز -
لاہور. .... . . .. رمضان کی آمد میں ابھی کچھ دن ہیں مگر مہنگائی کا جن ابھی سے اپنا منہ کھول کرکھڑا ہوگیا ہے، اوراشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا پارہ چڑھنے لگا ہے۔ رمضان کا آغاز گناہوں سے توبہ اور مغرفت کی دعا سے کیا جاتا ہے ، لیکن پاکستان میں یہ مہینہ آتے ہی مہنگائی کا ریلہ آجا تا ہے۔ اس سال بھی رمضان سے پہلے ہی دال، مصالحہ جات اور کھجور کی قیمت بڑھ گئی ہے ، قیمتیں بڑھنے سے بازاروں میں رش کم دکھائی دیتا ہے لیکن دکاندار مہنگائی کی ذمہ داری اپنے سر لینے کی بجائے اسے بڑے ہول سیلرز کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اورہروقت گاہگ نہ ہونے شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔ آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی میں رمضان المبارک کی تیاری بھی کٹھن مرحلے سے کم نہیں ، جن اشیا کی قیمتیں پہلے بڑھ رہی ہیں وہ رمضان میں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوجاتی ہیں ، ایسے میں لوگ پرائس کمیٹیوں کی نااہلی ماتم کرنے کیساتھ ساتھ مجبوراً خریداری بھی کرتے نظرآتے ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر اسلامی ملکوں میں رمضان المبارک کی آمد کی خوشی میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں ، کیا ہی اچھا ہوجو یہ رجحان پاکستان میں بھی نظر آنے لگے۔ادھر کوئٹہ میں بھیاشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عوام روزوں سے پہلے فاقہ کشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ ۔ مختلف علاقوں میں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ دالیں ، چاول اور دیگراشیامیں بیس سے تیس فیصد جبکہ سبزیوں کی قیمتوں میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ہو اہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے کوئٹہ میں سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیاء باہر سے آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جا تا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا یہ ہے کہ کوئٹہ میں پرائس مجسٹریٹ کی کمی کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے تاہم قیمتوں کو اعتدال میں لانے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ رمضان المبار ک کے لئے تاجروں کے ساتھ مل کر قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔