1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
امریکا قرض کے بھاری بوجھ تلے دب گیا ،حکومت اپوزیشن ڈیڈلاک
جنگ نیوز -
واشنگٹن. . . . . . . . امریکی صدر بارک اوباما نے کہاہے کہ ری پبلیکن سے مذاکرات ڈیموکریٹس کو مات کی حالت میں لے آئے ہیں۔قرض کا معاملہ امریکی معیشت کو سنگین نقصان پہنچا سکتا ہے ،جس پر کانگریس کے اسپیکر نے کہا کہ بحران اوباما نے خود پیدا کیا ہے۔ انہیں جنوری میں ہی آگاہ کردیا تھاکہ قرض کی حد نہیں بڑھنے دیں گے۔ امریکا میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکا کی کریڈٹ ریٹنگ منفی ٹرپل اے ہوچکی ہے۔ امریکا میں کریڈٹ کارڈز پر سود کی شرح بڑھ رہی ہے۔ قرض کی صورت حال پر سیاسی سمجھوتا کرنا پڑے گا لیکن سمجھوتے کو ایک گندا لفظ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ قرض کی آخری حد میں چھ ماہ کی توسیع سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ، کیونکہ چھ ماہ بعد امریکا پھر اسی حالت میں کھڑا ہوگا۔ اگردیوالیہ ہوگئے تو لوگوں کو سوشل سیکیورٹی کے چیکس دینے اور مریضوں کے علاج کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ امریکی کانگریس کے اسپیکر اور ری پبلیکن رہنما جان بینر نے کہا کہ بحران کی صورت حال خود امریکی صدر نے پیدا کی ہے۔ انہیں جنوری میں ہی آگاہ کردیا تھاکہ قرض کی حد کو نہیں بڑھنے دیں گے۔ تیزی سے بڑھتا ہوا قرض روزگار ،سرمایہ کاری اور معیشت کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ قرض کی حد کو بڑھائیں گے لیکن اس کیلئے اخراجات میں کمی اور بجٹ میں ترامیم کرنی ہونگی جبکہ امریکی صدر بلینک چیک چاہتے ہیں۔