تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48

سپریم کورٹ کے احکامات نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری

جنگ نیوز -


اسلام آباد…قومی دولت کی لوٹ مار اور کرپشن کے بڑے واقعات سے تعلق رکھنے والے متعدد اہم کیسز میں وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر نہ صرف عمل نہیں کیا گیا بلکہ بعض مواقع پر ان عدالتی آرڈرز کی کھلی خلاف ورزی بھی کی جاتی رہی یوں لگتا ہے کہ حکومت کے منہ پر کچھ ہے اور دل میں کچھ اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے دعوے تو کیے جاتے ہیں کہ ہر عدالتی فیصلے پر عمل ہوگا ، لیکن عملا ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اگر چند بڑے بڑے فیصلوں کو حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ عدالت عظمی نے مشرف دور حکومت کے قومی مفاہمتی آرڈیننس ، این آر او کو کالعدم قرار دے دیا تھا ، اس کے تحت وہ تمام کیسز بحال ہونے تھے جو این آر او کے ذریعے ختم کردیئے گئے تھے، واضح عدالتی حکم کے باوجود حکومت کی طرف سے سوئس کیسز بحال نہیں کئے جاسکے۔ جسٹس ریٹائرڈ دیدارشاہ کے بطور چیئرمین نیب تقرر کو بھی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا اور چیئرمین نیب عہدہ پر تقرر کی واضح مہلت دی لیکن مہلت ختم ہونے کے باوجود یہ تقرر نہیں ہوسکا، عدالت نے پی سی او ججز کے حوالے سے بھی آرڈر جاری کررکھا ہے، لیکن تاحال وفاقی وزارت قانون نے ان پی سی او ججز کا جج عہدہ نہ ہونے کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا، اسلام آباد کے ایف نائن پارک کیس میں عدالت نے سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری کیخلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایل این جی کوٹہ کیس میں عدالت نے ذمہ دار سرکاری شخصیات کے خلاف کارروائی کو حکم دیالیکن اس پر بدستور عمل نہیں ہوا، این آئی سی ایل کے اراضی اسکینڈل اور حج انتظامات کے کرپشن کیسز میں عدالت نے ایف آئی اے کے تحقیقاتی آفسیرز متعین کرنے کا جو حکم دیا وہ بھی حکومت کی طرف سے بدستور ناقابل عمل ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی سے متعلقہ ان تمام بڑے مقدمات میں سے بعض زیر سماعت ہیں جبکہ کئی پر حکومت نے نظرثانی کی اپیلیں دائر کررکھی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.