1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
کے ای ایس سی تنازع ختم، شہریوں کی مشکلات پھر بھی تمام نہ ہوسکیں
جنگ نیوز -
کراچی… حکومتی مداخلت کے بعد کے ای ایس سی انتظامیہ اور سی بی اے یونین کا تنازع ختم ہو گیا اورکے ای ایس سی کے دفاتر اور شکایتی مراکز کھلنا شروع ہوگئے ہیں لیکن کراچی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیاہے۔ بجلی کی طویل بندش اور دس سے بارہ گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا دو بھر کردیاہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے31دسمبر 2010کو رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کرائی۔350 ملازمین نے اسکیم سے فائدہ اٹھایا، دیگر4150ملازمین کوفارغ کردیاگیا۔ تاہم سی بی اے یونین کے دھرنے،صدر اورگورنر سندھ کی مداخلت کے بعد 24 جنوری کوبرطرف ملازمین بحال کردیئے گئے۔20اپریل کو یونین اور انتظامیہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، جب بحال ہونے والے ملازمین کوسر پلس پول میں ڈال دیا گیا۔ ملازمین نے28اپریل کو احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ شروع کیا،مزید2800ملازمین نے اسکیم سے فائدہ اٹھایا، باقی ملازمین دھرنے پر بیٹھے رہے۔تنازع ایک بار پھر گورنر سندھ اور وفاقی وزیر خورشید شاہ کی مداخلت کے بعد اختتام پذیر ہوا۔کے ای ایس سی انتظامیہ، سول ایڈمنسٹریشن اور یونین کے درمیان طے پانے والے تحریری معاہدے کے بعد کے ای ایس سی کے دفاترکھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ سی بی اے یونین کے رہ نماوٴں نے مطالبات کی منظوری پراحتجاج ختم اورشہر میں بجلی کے نظام میں پیدا ہونیوالی خرابیاں دور کرنے کیلئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کا اعلان کردیا ۔ کمشنر کراچی محمد حسین سید کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت رضاکارانہ علیحدگی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کو اہلیت کے مطابق دیگر شعبوں میں ایڈجسٹ کیا جائیگا۔کے ای ایس سی انتظامیہ اور یونین کا تنازع تو ختم ہوگیا لیکن شہریوں کی مشکلات تاحال ختم نہیں ہوسکیں۔دس سے بارہ گھنٹے غیر اعلانی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیاہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال رہی تو ممکنہ بارشوں کے نتیجے میں شہر اندھیروں میں ڈوب سکتاہے۔