1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
حج اسکینڈل،سہیل احمد کی معطلی پر وزیرا عظم کا تحریری رد عمل طلب
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے حج اسکینڈل کیس کی تحقیقات کے لئے حسین اصغر کو بحال کرنے والے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد کی معطلی پر وزیراعظم کا تحریری ردعمل کل طلب کرلیا ہے،چیف جسٹس افتخارچودھری نے کہا ہے کہ سہیل احمد نے آئینی اختیاراستعمال کیا، وزیراعظم کو جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ حج اسکینڈل کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی خصوصی بنچ میں ہوئی۔ڈی جی ایف آئی اے تحسین انور آج عدالت میں ہیش ہوئے اور بتایا کہ آئی جی گلگت بلتستان پولیس حسین اصغر ابھی تک ایف آئی اے میں واپس نہیں آئے ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو غلط فہمی ہو تو وہ اسے دور کرلے ، یہاں قانون کی حکمرانی کے سوا کچھ نہیں چلنا ، چیف جسٹس نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد کو ہٹائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ ابھی جاکروزیراعظم سے بات کریں، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو قانونی حکم ماننے پر او ایس ڈی بنادیا گیا، سہیل احمد نے آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کیاتھا، چیف جسٹس نے کہا کہایماندار آفیسرز کو اس وقت ایگزیکٹو کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، وقفہ کے بعد اٹارنی جنرل نے آکربتایا کہ وزیراعظم کابینہ اجلاس میں مصروف ہیں، ان سے بات نہیں ہوسکی، انہوں نے سہیل احمد کو اوایس ڈی بنانے کا نوٹی فکیشن بھی پیش کیا،عدالت نے انہیں کہا کہ وہ وزیراعظم سے ذاتی طور پر، انہیں عدالتی حکم سے اور آئینی و قانونی صورت حال بھی بتائیں،اس کے بعد وزیراعظم کا ردعمل تحریری طور پر لائیں،بعد میں مقدمہ کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔