1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
ایئر بلو طیارہ حادثہ،سندھ ہائیکورٹ کا تحریری جواب داخل کرنے کا حکم
جنگ نیوز -
کراچی...سندھ ہائی کورٹ نے ایئر بلو طیارے کے حادثے میں مرنے والے جرمن باشندے ڈاکٹر مرکو کی بیوہ کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کے دعوے پر ایئربلو کمپنی، سول ایوی ایشن اتھارٹی ، وفاقی حکومت اور ایئر بس بنانے والی کمپنی کو 15ستمبرتک تحریری جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔آج اس حادثے کو ایک سال پورا ہوگیا ہے۔مارگلہ کی پہاڑیوں میں پیش آنیو الے اس حادثے میں جہاز میں سوار تمام 152 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے جن میں مدعیہ میرا مرکو کا خاوند بھی شامل تھا۔ مدعیہ کے وکیل سردار اعجاز خان کے مطابق دعوے میں کہاگیا ہے کہ ایئربلو کی طرف سے احتیاطی اور حفاظتی قواعد پر عمل درآمد نہیں کیا گیااور نہ ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان قواعد و ضوابط پر عمل کرانے کی اپنی ذمہ داری پوری کی جبکہ طیارہ بھی پرواز کے قابل نہیں تھا۔ یہ حقائق اس حادثے کا سبب بنے جس میں مدعیہ کے خاوند بھی ہلاک ہوئے۔ انکے خاوند کی عمر 60 سال تھی اور اوسط طبعی عمر 81 سال کو مدنظر رکھیں تو وہ مزید 21 سال تک اپنی فیملی کو مالی طور پرسپورٹ کرسکتے تھے اس لئے عدالت مدعا علیہان سے دس لاکھ ڈالر مع 21 فی صد سالانہ سود ادا کروائے۔