1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
ایس ایس پی سی آئی ڈی کے خلاف کارروائی کی جائے،ملت جعفریہ
جنگ نیوز -
کراچی…ملت جعفریہ کی نمائندہ تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ مختار عباس بخاری کے قتل میں سی آئی ڈی پولیس کے ایس ایس پی چوہدری اسلم ملوث ہیں،کراچی سکیورٹی ادارے کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر شیعہ عمائدین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایارہے ہیں۔سندھ پولیس کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سر پرستی کر رہی ہے، عسکری رضا پر چھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ۔ان خیالات کا اظہار مولانا مرزا یوسف حسین ،مولانا حسین مسعودی (جعفریہ الائنس)،مولانا ناظر عباس تقوی (شیعہ علماء کونسل) ،مولانا شہنشاہ نقوی(ہیت آئمہ مساجد)،مولانا منور نقوی (مجلس وحدت مسلمین)،مولاناشبیر میثمی (شیعہ علماء کونسل) اورعسکری رضا(لیگل ایڈ انچارج سندھ) نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مختار عباس بخاری ایڈووکیٹ کی شہادت پر دہشت گردی، ملت تشیع کے علماء، ڈاکٹرز، وکلاء ، دانشور اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیکڑوں افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پہلے تو یہ الزام فرقہ پرستی کے زمرے میں آتا تھا مگرا ب اس میں سکیورٹی اداروں کے ذمہ داران بھی شریک ہوگئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان علماء کرام ،وکلاء، ڈاکٹرز کے قاتلوں کو گرفتار کیا جاتارہا ، لیکن اس کے برخلاف ملت تشیع کے اکابرین اور بے گناہ نوجوانوں کو مقدمات میں ملوث کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی پیروی کرنے والے وکلاء کو خونیں انجام کی دھمکیاں دی گئیں، جس کا عملی ثبوت24جولائی کو دن دہاڑے مختار عباس بخاری ایڈووکیٹ کا بہیمانہ قتل ہے۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سی آئی ڈی کی ذاتی دلچسپی پر مختار بخاری کے قتل کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلی گئی۔ مختار عباس بخاری کے قتل کے سلسلے میں جب ہم نے مقدمہ درج کرانے کیلئے عید گاہ تھانے سے رجوع کیا تو ایس ایچ او عید گاہ محمد نواز نے ایس ایس پی سی آئی ڈی چودھری اسلم اور اورنگزیب فاروقی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن اس کے جواب میں سی آئی ڈی کے ایس ایس پی کی ایماء پر کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے عدالت کے اس فیصلے کے دوگھنٹے کے اندر اندر 24 جولائی کو سرجانی ٹاؤن میں ہونے والے ایک واقعے کی جھوٹی ایف آئی آر عسکری رضا کے خلاف درج کرادی۔بعد ازاں پریس کانفرنس کے بعد عسکری رضا نے آرٹلری میدان تھانے میں شیعہ علماء کے ہمراہ اپنی گرفتاری رضاکارانہ طور پر پیش کردی مگر پولیس نے گرفتاری لینے سے انکار کر دیا جس پر شیعہ علماء کرام نے گورنر ہاؤس پر دھرنا دیا۔ان رہنماؤ ں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، وزیر داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ فوری طور ایس ایس پی سی آئی ڈی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔