1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
وفاق کی اتھارٹی اور ریاستی اداروں کی عظمت برقرار رکھنے کا عزم
جنگ نیوز -
اسلام آباد…وزیراعظم اور کابینہ ارکان نے قانون کی حکمرانی اور وفاق کی اتھارٹی کے تحفظ کا عزم کیاہے اورریاست کے تمام اداروں کی عظمت کو برقرار رکھا جائے گا،ڈاکٹر بابر اعوان کا کہناہے کہ موجودہ حکومت نے عدلیہ کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی،حکومت کسی ایک نوٹی فیکشن سے حکومت کسی قانونی عدالت جج کی تقرری کرسکتی ہے اور نہ ان کو ہٹا سکتی ہے ،اس کا محض ایک ہی طریقہ کار ہے جو آئین میں مختلف آرٹیکلز کی صورت میں درج ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیراعظم نے کابینہ ارکان کوسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں اور مجموعی قانونی صورت حال پر بریفنگ کے لئے ڈاکٹربابر اعوان کو اجلاس میں بلایا،ڈاکٹر بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمات اور بلخصوص سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے قانونی پہلووٴں پر تفصیلی بریفنگ میں کہاکہ قانونی طور پر تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے،ذرائع نے جیونیوز کے نمائندے آصف علی بھٹی کو بتایاکہ ڈاکٹر بابر اعوان نے سپریم کورٹ کی جانب سے افسران کی براہ راست طلبی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ یہ مناسب طریقہ نہیں ،لاء افسر کی موجودگی میں انہیں براہ راست بلانا مناسب نہیں،انہوں نے کہاکہ ایسی صورت حال میں جب افسر کو براہ راست بلایا جاتاہے تو وہ پریشر میں آجاتاہے،اور یہی کچھ سہیل احمد کے معاملے میں ہوا،انہوں نے خود سے وزیراعظم کو آگاہ کئے بغیر آڈر پاس کردیئے اور اتھارٹی کا غلط استعمال کیا ،کورٹ کو لاء افسر کی موجودگی میں ان افسران کو ان کے ذریعے ہی بلانا چاہئے۔اجلاس میں کچھ ارکان کا کہناتھاکہ موجودہ صورت حال میں عدلیہ کے ساتھ ٹکراوٴ کی صورت پیدا نہیں ہونی چاہئے،ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایاکہ کورٹ نے جو کچھ کہااس پر حکومت نے عمل کیا،ہر کام کا ایک طریقہ ہوتاہے اور حکومت اس سسٹم کو فالو کررہی ہے جو قانونی طور پر صحیح راستہ ہے اور آئندہ بھی اس کو فالو کرے گی ،کسی ادارے کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہوگا، بابراعوان نے کابینہ کو سپریم کورٹ کے نجکاری، پاورپراجیکٹس، چینی بحران، این آر او پرعدالتی فیصلوں اور پھرحکومتی فیصلوں سے آگاہ کیا۔