تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48

حج کرپشن کیس ،عدالت دیکھے گی حسین اصغرنے چارج سنبھالا یا نہیں

جنگ نیوز -


اسلام آباد…سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس کے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل کے لیے کسی انتظامی اتھارٹی کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ آئین کے تحت تمام عدالتی اور انتظامی اداروں پر پابندی لازمی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ حج کرپشن کیس کی سماعت کی جس کے بعد جاری کیے جانے والے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیا اور اگر ایسے افسر کو او ایس ڈی بنا دیا جائے تو ملک میں اچھا پیغام نہیں جائیگا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالت اپنے متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ تبادلے اور تقرریاں انتظامیہ کا اختیار ہے لیکن حج کرپشن کیس میں عدالت نے خود احکامات جاری کرنے سے پہلے حسین اصغر کے تبادلے کا معاملہ متعدد مرتبہ اٹارنی جنرل کے ذریعے انتظامیہ کو بھیجا جس پر کوئی توجہ نہ دی گئی جس کے بعد عدالت نے اپنے عدالتی اختیار کو استعمال کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سہیل احمد واحد افسر نہیں جن کے ساتھ ایسا کیا گیا۔ سہیل احمد کیخلاف جس انداز میں کارروائی کی گئی اس کا واضح مقصد عدالتی احکامات کو غیر موثر کرنا ہے۔ سہیل احمد نے آئین کے تحت عمل کیا آئین ایک مقدس دستاویز ہے اور ہر اتھارٹی کو اس پر عمل کرنا لازم ہے اگر کوئی اتھارٹی آئین کی کسی شق سے پہلو تہی کرتی ہے تو اس سے انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دیانتدار افسران کو انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔




متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.