1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
عضلات بتدریج سوکھنے کی بیماری کا نیا علاج دریافت ،طبی ماہرین
جنگ نیوز -
لندن . . . . موروثی مرض ڈیوچینی سکولر ڈسٹروفی ”ڈی ایم ڈی“ جس میں عضلات بتدریج سوکھنے لگتے ہیں، کے متعلق ایک نئی طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سرجری میں استعمال ہونے والے ایک باریک اور تیز چاقو (نشتر) کی طرح ”مالیکیولرا سکیل پل“ دوا اب مریضوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے میں مدد دے سکے گی۔ اس بیماری میں ڈسٹروفین نامی پروٹین کو ایک جین تباہ کر دیتا ہے جس سے عضلات سوکھنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں یہ دوا 19 بچوں پر تجربات کیلئے استعمال کی گئی جس سے ان کے جسم میں مخصوص پروٹین دوبارہ بننے لگی۔ اس تحقیق کو جریدے ”لینسیٹ“ نے شائع کیا ہے جس میں مسکولر ڈسٹروفی چیئرٹی نے کہا ہے کہ اب مستقبل میں اس بیماری سے بچوں کی ہلاکت کا امکان ختم ہو جائے گا۔ یہ بیماری ہر 3500 بچوں میں سے ایک کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ اگر بچہ بچ جائے تو ساری زندگی کیلئے معذور ہو کر ویل چیئر کا محتاج ہو جاتا ہے۔ 10 سال سے پہلے تک یہ بیماری بچوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ایسے بچوں کی عمر زیادہ تر 30 سال سے زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ ان کے دیگر اعضاء میں بھی خون کی ترسیل کا نظام بگڑنے لگتا ہے۔ اس نئی دوا کو سرجری کے نشتر سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ جینیٹکس کوڈ کو تبدیل کرکے پروٹین کی بحالی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ اب بنیاوٴدی خلیے اور جین تھراپی پر ہونے والی تحقیقات کوشش کر رہی ہیں کہ اس پروٹین کو فنکشنل کرنے والے جین کو دوبارہ متحرک کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی جائے۔ ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ جین کے کوڈ کو بگڑنے اور دوبارہ اصل حالت میں لانے تک بھی رسائی حاصل کر لیں گے۔