1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
عدلیہ سے کشیدگی، صدر ، وزیراعظم کا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کافیصلہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت صوبائی چیف ایگزیکٹوز کے اجلاس میں ریاستی اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے تاثر کی نفی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اداروں کے درمیان ٹکراوٴ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ریاستی اداروں کی ماں اور سپریم ادارہ ہے۔ ایوان صدر اسلام آباد میں صدر اور وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں آزاد کشمیرکے نو منتخب صدراوروزیراعظم ،صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز،صوبہ سندھ،بلوچستان،خیبر پختونخوااور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ،سینیٹر بابر اعوان،پنجاب میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض، ارکان قومی اسمبلی رخسانہ بنگش،فوزیہ حبیب اور صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر شریک ہوئے۔صدارتی ترجمان کے مطابق اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، شرکا نے تمام ریاستی اداروں کے احترام کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی ادارے باہمی ہم آہنگی اور آئین میں دیئے گئے دائرہ کار میں کام کرنے کے پابند ہیں۔ اجلاس میں عزم ظاہر کیا گیا کہ گڈ گورننس کے قیام،کرپشن کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بجلی کی کمی،مہنگائی اور بیروزگاری کو ختم کیا جائیگا۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ماہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کی مانیٹرنگ کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق اجلاس میں صدر اور وزیر اعظم کی قیادت اور پارلیمنٹ و ریاستی اداروں کی مضبوطی کیلئے ان کے اقدامات پراعتمادکااظہارکیاگیا۔ذرائع نے جیونیوزکوبتایاہے کہ شرکا اس بات پربھی متفق ہوئے کہ وزیر اعظم عدالت عظمیٰ سے موجودہ کشیدگی کے بارے میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ 17 کروڑ عوام کا ادارہ ہے،اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ حکومت عدلیہ سے محاذ آرائی نہیں چاہتی لیکن چیف ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت کوبھی قبول نہیں کیاجائیگا۔اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملک کسی محاذ آرائی اور عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے میں اشارہ ہے کہ چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہی ہیں۔ فیڈریشن موجودہ قیادت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،عوام کو موجودہ حالات میں محاذ آرائی کی بجائے ریلیف کی ضرورت ہے۔