1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
اسامہ کے بعد پاکستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کردیا،امریکی عہدیدار
جنگ نیوز -
واشنگٹن… امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینئیر رہنما کا کہنا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے ، امریکا نے اسامہ کی ہلاکت کے لیے کی جانے والی کارروائی پر پاکستانیوں کو پہنچنے والی خفت کادرست اندازہ نہیں لگایا۔ جبکہ سابق امریکی انٹیلی جنس چیف ڈینس بلئیر نے کہا ہیکہ ڈرون حملے روک دیئے جائیں کیونکہ یہ پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینئیر رہنما ریٹائرڈ جنرل ڈگلس لیوٹ نے ASPEN سیکیورٹی فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے منصوبہ بندی کے تحت اسامہ کی ہلاکت کے بعد میزائل حملے بڑھا دیئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کو فیصلہ کن دھچکا پہنچا چکے ہیں ، ناک آوٹ پنچ لگانے کی ضرورت ہے ۔DOUGLAS LUTE کا کہنا ہے کہ اگر ایمن الظواہری سمیت القاعدہ کے تین یا پانچ بڑے رہنما مزید ہلاک کردیئے تو بقا کے مسئلے سے دوچار ہوجائے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکا نے اسامہ کی ہلاکت کے لیے کی جانے والی کارروائی پر پاکستانیوں کو پہنچنے والی خفت کادرست اندازہ نہیں لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کو اسامہ بن لادن کے اپنے ملک میں قیام سے زیادہ اس بات پر شرمندگی تھی کہ اسے انہیں بتائے بغیر سرحد پار آپریشن کرکے ہلاک کردیا گیا جبکہ امریکی نیشنل انٹیلے جنس کے سابق ڈائریکٹر ڈینس بلئیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے معاہدے کی صورت میں امریکا کو صرف میزائل حملے کرنے چاہئیں۔ ڈینس بلئیر کے مطابق امریکی پالیسی کے دوسرے مرحلے میں اسے چھوٹے پیمانے پر حملے کرنے ہیں، مگر موجودہ صورت حال امریکا کو کوئی حملہ نہ کرنے کی جانب لیجارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کل چار ہزار دہشت گردوں کے خلاف سالانہ 80 ارب ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں، نائن الیون کے بعد سے اب تک امریکا میں کل 17 شہری دہشت گردی کے باعث ہلاک ہوئے جبکہ اس دوران ٹریفک حادثات اور جرائم کے دوران 15 لاکھ امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسلیے امریکا دہشت گردی کے بجائے دیگر امور پر زیادہ رقم خرچ کرے۔ سابق امریکی صدر جارج بش دور کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اسٹیفن ہیڈلے نے کہا کہ اگر پاکستان کو اسامہ بن لادن جیسیبڑے ٹارگٹس کیخلاف آپریشن میں شامل رکھا جاتا تو وہ حملوں کی اجازت دینے کیلئے تیار تھا۔