1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
رمضان کی آمد آمد،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ نیوز -
کراچی… کم ہوتی قوت خرید اور ماہ رمضان سے قبل کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ، دو دھاری تلوار بن کر غریب عوام کی گردنوں پر لٹک رہی جبکہ مہنگائی کے بوجھ نے صارف کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ویسے تو مہنگائی کا سلسلہ سارا سال ہی چلتا ہے لیکن ماہ رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی قیمتوں کو آگ لگ جاتی ہے لاہور میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چینی کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ گھی و تیل کی قیمتیں بھی 10 سے 15 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 160سے 165روپے فی لیٹر کی سطح پر آگئیں ہیں۔۔ اس کے علاوہ لال مرچ کی قیمت 40 روپے اضافے کے ساتھ 240 روپے فی کلو کی سطح پر آگئی۔ کراچی شہر میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان جاری ہے ۔ مارکیٹ زرائع کے مطابق ہو ل سیل سطح پر ایک ماہ کے دوران کابلی چنے کی قمیت 126 سے 162 ، مونگ چھلکا 112 سے 130 ، جبکہ دال چنا 66 سے 74 روپے فی کلو کی سطح پر آگئی ہے۔ پشاور میں کھجور کی قیمت 60 روپے اضافے کے ساتھ 200 روپے فی کلو کی سطح پر آگئی جبکہ مختلف دالوں کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مرغی کے گوشت اور انڈوں کی فی درجن قیمت میں اضافہ دیکھا گیا جو 60 سے 80 روپے فی درجن کی سطح پر آگئے۔اس کے علاوہ کوئٹہ شہر میں بھی عوام رمضان سے پہلے ہی مہنگائی کا شکار ہو چکی ہے جہاں بکرے کے گوشت کی قیمت گزشتہ ایک ماہ میں 40 روپے اضافے کیسااتھ520 روپے فی کلو کی سطح پر آگئی اس کے علاوہ مرغی کا گوشت 300 روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔عوام کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور عوام ہر سال ماہ رمضان میں مہنگی کھانے پینے کی اشیاء خریدنے پر مجبور ہوتے ہے جبکہ حکومت کی جانب سے سستی اشیاء کی فراہمی کی باز گشت ہی سنائی دیتی ہے۔