2 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:50
رمضان شروع،پیپکو اور کے ای ایس سی کے وعدے پورے نہ ہوئے
جنگ نیوز -
کراچی/لاہور…رمضان کا ماہ مبارک تو شروع ہو گیا لیکن پیپکو اور کے ای ایس سی کے وعدے پورے نہ ہوئے۔ کے ای ایس سی کے سی ای او تابش گوہر کے دعووں کے برخلاف ماہ صیام کی پہلی سحری بھی گزشتہ راتوں کی طرح بہت سے علاقوں میں اندھیرے میں ہی گزری۔ سحری کے اوقات میں، گلشن اقبال، ابولحسن اصفہانی روڈ، میڑول تھری، گلزارہجری ، اورنگی ٹاون، فیڈرل بی ایریا بلاک16سمیت دیگر علاقوں میں بھی بجلی غائب رہی۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں کیبل فالٹس،پی ایم ٹی کی خرابی کی شکایات کے باعث کئی کئی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل رہنا معمول بن گیا ہے جبکہ گذشتہ روز آٹھ سے دس گھنٹے غیر اعلانی لوڈ شیڈنگ کی گئی۔ آج بھی یہی امکان ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں کمی نہیں آئیگی۔دوسری جانب کے ای ایس سی ترجمان کے مطابق پی ایس او اور سوئی سدرن گیس کمپنی سے مطلوبہ مقدار میں ایندھن ملتے ہی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں وعدے کے مطابق کمی کردی جائیگی۔اس وقت جو گیس فراہم کی جارہی ہے وہ شہر میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کو کم کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ادھر لاہور کے علاقے سمن آباد سمیت مختلف علاقوں میں سحری کے وقت میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا اور ٹائر جلائے۔پیپکو کی جانب سے سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے دعوے ٹھس ہو گئے اور پہلی ہی سحری میں طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف روزہ داروں نے مظاہرہ کیا اورسمن آباد میں ٹائر جلا کرلیسکو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین نے واپڈا کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ سحری کے وقت سے بجلی غائب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سحری کے وقت میں واپڈا کے دفتر کا عملہ بھی غائب تھا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان میں سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے۔