2 اگست 2011
وقت اشاعت: 16:14
بینک کھاتوں میں اضافے کے باوجود زکوٰةکی کٹوتی میں نمایاں کمی
جنگ نیوز -
کراچی...عوام کو حکومت کی طرف سے زکوة کی تقسیم کے نظام پر اعتماد نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال زکوة کی رقم میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ جیو نیوز کو حاصل شدہ اعدادوشمار کے مطابق 2006 سے 2009 کے درمیان بینک کھاتوں میں اضافے کے باوجود زکوة کی کٹوتی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ 2006 میں حکومت کو 2 ارب 35 کروڑ روپے، 2007 میں ایک ارب 98 کروڑ روپے، 2008 میں ایک ارب 94 کروڑ روپے اور 2009 میں ایک ارب 88 کروڑ روپے کی زکوة بینک کھاتوں ، حصص ، اور سیونگ سرٹیفکیٹ کے منافع سے حاصل ہوئی۔ 2010 میں بینکوں نے پرکشش منافع پر بچت کھاتے متعارف کرائے جس کی وجہ سے حکومت کو بھی فائدہ ہوا اور زکوة کی کٹوتی 31 کروڑ روپے اضافے کے ساتھ 2 ارب 19 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب زکوة کاشعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے مگر زکوة کے جمع ہونے اور تقسیم کا نیا فارمولا تاحال طے نہیں پاسکا ہے۔ حکومت کو زکوة دینے میں کمی کے باوجود ایسا نہیں کہ پاکستانی زکوة دینا نہیں چاہتے، رمضان المبارک میں مسلمان بڑے پیمانے پر زکوة ادا کرتے ہیں لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زکوة کی رقم اپنے ہاتھ سے مستحقین کو ادا کردے یا ملک بھر میں پھیلے ہوئے فلاحی اداروں اوراسپتالوں کو زکوة ادا کردے۔