2 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:51
ٹارگٹ کلر کی تصویر، ویڈیو فراہم کرنیوالے کو1 کروڑ روپے دینے کا اعلان
جنگ نیوز -
کراچی . . . . . کراچی کی کشیدہ صورت حال پر وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں ہونیوالے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فرنٹیئر کانسٹبلری کو پولیس کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کسی بھی ٹارگٹ کلر کی تصویر اور ویڈیو فراہم کرنے والے کو1 کروڑ روپے جبکہ نشاندھی کرنے والے کو 50 لاکھ کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلیٰ ہاوٴس سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان ، چیف سیکریٹری سندھ ، آئی جی پولیس سندھ ،قائم مقام ڈائریکٹر جنرل رینجرز ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ ،ایڈیشنل آئی جی پولیس اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا انٹیلی جنس نیٹ ورک کو کراچی کے شورش زدہ علاقوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں سے آھنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا اور رینجرز اور پولیس بلا تفریق اور فوری کارروائی کریگی۔ اجلا س میں آئی جی سندھ واجد درانی نے دعویٰ کیا اب تک 91 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے 191 افراد کے قتل کا اقرار کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ڈی آئی جی/ اور ایس ایس پی ہفتہ میں دو مرتبہ پولیس اسٹیشنوں کے دورے کریں گے اور اپنی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کریں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہر ایس ایچ او کی کارکردگی کی اسکروٹنی ہوگی۔ اجلاس میں طے کیا گیا آئی جی سندھ ہر 15 روز بعد ایس ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا مجرموں، شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے تک بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ٹارگٹ کلرز کی معلومات دینے والوں کی تفصیلات دینے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔