3 اگست 2011
وقت اشاعت: 15:5
حکومت دہشتگردوں کوکنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی،الطاف حسین
جنگ نیوز -
کراچی…متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ رینجرز اور فون کراچی میں آئے اور دیکھیں کہ کون دہشتگردی میں ملوث ہے،انھوں نے امن کے لیے کراچی میں فوج بلانے کا مطالبہ بھی کیا، اور عالمی برادری سے اپیل کہ وہ اردو بونے والوں کو تسلیم کریں،انھوں نے کہا کہ اگرپیپلز پارٹی نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو عوام پی پی کا انتخابات میں بائیکاٹ کرینگے، اگر میرے الگ ہونے سے امن ہوسکتا تو میں ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑنے کو تیار ہوں، انھوں نے ان خیالات کا اظہار لا ل قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، اس موقع پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے اراکین، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے، الطاف حسین نے کہا کہ ہم کسی قومیت کے نہیں کرپٹ نظام کے خلاف ہیں، ہر دور میں مہاجروں کو نشانہ بنایا گیا، 1964میں تو ایم کیو ایم نہیں تھی اسوقت مہاجروں کا قتل عام کیوں کیا گیا، کیا انکا قصور یہ تھا کہ انھوں نے صدر ایوب خان کا ساتھ دینے کے بجائے انتخابات میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن کا ساتھ دیا،جس کے نتیجے میں ٹرکوں میں بھر کر لوگ لائے گئے اور مہاجروں کا قتل عام ہوا،انھوں نے کہا کہ جنھیں ننگے بھوکے کہا جارہا ہے ان ہی کی قربانیوں سے یہ ملک قائم ہوا، اور جو آج دھرتی کے وارث بنے بیٹھے ہیں انھیں ان ہی ننگے بھوکوں نے ہندو بنیوں سے آزادی دلائی۔انھوں نے کہاکہ میں سندھ دھرتی کا بیٹا ہوں اور اسکے حقوق کی خاطر جان بھی دے سکتا ہوں، مہاجر اب مہاجر نہیں پاکستانی ہیں، میں آج ایک مرتبہ پھر امن کی اپیل کرتا ہوں۔قائد تحریک نے کہ میں ذاتی طور پر تشدد سے نفرت کرتا ہوں،امن محبت اور مساوات کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہوں،حکومت طاقت کے ذریعے ایم کیو ایم کو کچلنا بند کردے۔ایم کیو ایم کراچی میں پرتشدد واقعات کی بھرپور مذمت کرتی ہے،انھوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود آج پھر ایم کیو ایم کو کراچی کی خراب صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔الطاف حسین نے کہا کہ آج تقسیم کے بعدآنیوالوں کوطعنے دیے جارہے ہیں،ہجرت کے وقت مشرقی پنجاب سے آنے والے پورے پورے خاندان قتل کردیئے گئے تھے،اسوقت مختلفعلاقوں سے مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آئے،انھوں نے کہاکہ مہاجروں کاسندھیوں،پنجابیوں نے کھلے دل سے استقبال کیا،اسوقت مہاجروں کی پانچویں نسل زندگی گزاررہی ہے،انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو طاقت سے ختم کرنے والی کوششیں بند کردی جائیں،ہم بحیرہ عرب میں ڈوب کر نہیں مریں گے،حکومت دہشتگردوں کو کنٹرول کرنے میں ناکا م ہوگئی،انھوں نے کہا کہ جو آج ہمیں مہاجر کہہ رہے ہیں وہ 200سال پرانے سندھیہیں،توہم70سال پرانے سندھی ہیں، کیابھارت کادل اتنابڑاہے کہ5کروڑلوگوں کوقبول کرے،عالمی برادری کب تک کرپٹ نظام کی حمایت کریگی، انھوں نے اس موقع پر سوال کیا کہ آخرکوٹاسسٹم سندھ میں کیوں نافذکیاگیا۔