5 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:42
دنیا بھر سالانہ پانچ کروڑ بچیوں کی کم عمری میں شادی کردی جاتی ہے
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…دنیا بھر میں ہر تین سیکنڈ بعد18برس سے کم عمر لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور ایک سال میں ایک کروڑ سے زیادہ کم عمر بچیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔زیادہ تر ایسی شادیاں افریقا ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر میں پانچ کروڑ بچیوں کو دلہن بنا دیا جاتا ہے اور یہ تعداد آئندہ دہائی تک دس کروڑ سے تجاوز ہونے کا امکان ہے۔ زچگی کے دوران ایسی ماوٴں کے مرنے کی شرح بہت زیادہ ہے دنیا بھر میں70ہزار مائیں پہلی زچگی میں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کی روپرٹ کے مطابق چائلڈ میرج جس نے دنیا بھر کی لاکھوں بچیوں کی معصومیت کو چھین لیا اور انہیں،غربت ،جہالت اور خراب صحت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبورہونا پڑتا ہے۔کم عمری کی شادیاں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دنیا بھر میں ہر تین سیکنڈ بعد18برس سے کم عمر لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور ایک سال میں ایک کروڑ سے زیادہ کم عمر بچیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ایسی شادیوں میں ان لڑکیوں سے کبھی ان کی رضا مندی نہیں پوچھی جاتی۔ اکثر اسے ایک بڑی عمر کے آدمی کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے۔زیادہ تر ایسی شادیاں افریقا ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ہو رہی ہیں۔برطانوی تھنک ٹینک کے مطابق معاشی اور سماجی ترقی میں رکاوٹ کی بڑی وجہ ایسی شادیاں ہیں اور ہم ان کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ایسی شادیاں جن میں بچیوں کو خاموشی سے فروخت کر دیا جاتا ہے ان میں زچگی کے دوران انتہائی خوفناک زخم اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن نے 18 سال سے کم عمر کی شادی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ لیکن خواتین پر تحقیق کے لئے بین الاقوامی مرکز (ICRW) کے مطابق دنیا بھر میں پانچ کروڑ بچیوں کو دلہن بنا دیا جاتا ہے۔اور یہ تعداد آئندہ دہائی تک دس کروڑ سے تجاوز ہونے کا امکان ہے۔حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ملینیم ترقیاتی مقاصد جنہوں2015 تک حاصل کرنا ہے ان کل 8مقاصد میں سے 6مقاصد کا براہ راست تعلق چائلڈ میرج سے ہے۔ان میں انتہائی غربت اور بھوک کے خاتمے ، عالمگیر پرائمری تعلیم کے حصول ، صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کے فروغ ، بچوں کی شرح اموات میں کمی ، ماں اور بچے کی صحت میں بہتری ، ایچ آئی وی / ایڈز ، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے خلاف جنگ شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اثر تباہ کن ہے۔ لڑکیوں کو ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے،کئی خاندان بچیوں کو بیکار کابوجھ تصور کرکے جلد جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ایسی لڑکیاں جو ثانوی اسکول کی تعلیم مکمل کر لیتی ہیں ان میں چائلڈ دلہن بننے کے چھ گنا امکانات کم ہوتے ہیں۔ نائجر،چاڈ اور مالی میں70فی صد بچیوں کی شادیاں18سال سے قبل ہی کردی جاتی ہیں۔ بنگلا دیش ، گنی ، وسطی افریقی جمہوریہ ، موزمبیق ، برکینا فاسو اور نیپال میں 50 فی صد سے زیادہ بچیوں کی شادیاں 18سال سے کم عمر میں ہو جاتی ہیں۔ایتھوپیا ، ملاوائی ، مڈغاسکر ، سیرالیون ، کیمرون ، اریٹیریا ، یوگنڈا ، بھارت ، نکاراگوا ، زیمبیا اور تنزانیہ میں یہ شرح40فی صد سے زیادہ ہے۔ یونیسف کے مطابق ایسی شادیوں میں زچگی کے دوران ماوٴں کے مرنے کی شرح بہت زیادہ ہے دنیا بھر میں70ہزار مائیں پہلی زچگی میں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جو 15سے19برس کی عمر میں دلہن بنی تھیں۔ایسی ماوٴں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے قبل از وقت یا کم وزن پیدا ہوتے ہیں۔