9 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:10
لندن فسادات نے برمنگھم کے بعد لیورپول،مانچسٹر کو بھی لپیٹ میں لے لیا
جنگ نیوز -
لندن…لندن سے شروع ہونے والے فسادات نے برمنگھم ، لیورپول ے بعد اب مانچسٹر اور برسٹل کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوٹ مار کے علاوہ کئی گاڑیوں اور ایک پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگادی گئی۔ شمالی لندن میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پولیس کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ٹوٹنہم سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کا سلسلہ جنوبی علاقوں پیکہم، کرائیڈن اور لوئی شیم کے علاوہ دارالحکومت سے نکل کربرمنگھم اور لیورپول تک پھیل گیا ہے۔ فسادات کے باعث وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیراعظم نک گلیگ،وزیرداخلہ تھریسامے اور لندن کے میئرچھٹیاں مختصر کرکے وطن لوٹ آئے ہیں۔ پیرکے روزجنوبی لندن کاضلع کرائیڈن میدان جنگ بنارہا۔ اوردن بھرہنگامہ آرائی ،توڑ پھوڑ اورلوٹ مارکاسلسلہ جاری رہا۔ شرپسندوں نے ایک عمارت ، ایک فیکٹری اورسوچالیس سال پرانی فرنیچرمارکیٹ اورکئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ برکسٹن میں اسپورٹس شاپ ، ہیکنی میں پولیس وین کو آگ لگادی گئی۔ لندن کے ساتھ لیورپول اوربرمنگھم میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے جہاں لوٹ مارکے علاوہ کئی گاڑیوں کو بھی جلادیاگیا۔ برمنگھم میں ایک پولیس اسٹیشن کوآگ لگادی گئی۔پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں اب تک تقریباً دو سو چالیس سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔چالیس سے زائد افراد پر فرد جرم بھی عائد کردی گئی ہے۔ہنگاموں کے دوران کئی پولیس اہلکارزخمی بھی ہوئے۔