9 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:16
افغانستان:طالبان کی جانب سے دیسی ساختہ بموں کا ریکارڈ استعمال
جنگ نیوز -
لندن…فارن ڈیسک…افغانستان میں طالبان کی طرف سے نیٹو فورسز کے خلاف دیسی ساختہ بارودی سرنگوں اور بموں IEDs کا استعمال افغان جنگ میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ کے مطابق طالبان کی طرف سے دشمن کو ہدف بنانے کے لیےIEDs کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ پینٹاگون ٹاسک فورس کے مطابق2001ء سے اب تک طالبان کی طرف سے اتنی زیادہ تعداد میں IEDs کا استعمال دیکھنے میں نہیں آیا اور وہ اس کی روک تھام کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عسکریت پسند کئی برسوں سے ہتھیاروں کی جگہ ان روایتی آلات کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ رواں برس ان کے استعمال میں 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایمپرووائزڈایکسپلوسیو ڈیوائسزImprovised explosive devices (IEDs) کے استعمال سے2010ء میں نیٹو فورسز کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ اپریل سے جون تک3845 دھماکے ہوئے یا ایسے آلات ملے۔ اسی عرصے میں اتحادی افواج کی ہلاکتوں میں15فیصد اضافہ ہوا۔ صرف جون میں سڑکوں کے ساتھ نصب بموں کے پھٹنے میں اوسطاً25فیصد اضافہ ہوا۔ ان دھماکا خیز ڈیوائسزمیں کھادوں میں استعمال ہونے والا امونیم نائٹریٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ برطانوی فوج کے زیر آپریشن ہلمند صوبہ ایسی ڈیوائسزکے دھماکوں سیسب سے زیادہ متاثر ہے۔ 2010ء میں60فیصد ہلاکتیں انہی ڈیوائسز سے ہوئیں۔