9 اگست 2011
وقت اشاعت: 12:14
لندن کے نسلی فسادات مانچسٹر سے برسٹل تک پھیل گئے
جنگ نیوز -
لندن… شمالی لندن میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد لگنے والی آگ برمنگھم، مانچسٹر ، لیورپول اور برسٹل تک جا پہنچی ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق گرفتار کیے جانیوالے تین سو چونتیس افراد میں ایک گیارہ سال کا لڑکا بھی شامل ہے،،انتیس سالہ مارک Dugganکی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت نے برطانیہ کو پچیس برس پیچھے لا کھڑا کیا ہے، پچھلے تین دن سے لندن کے شمالی اور جنوبی علاقے میں لگی آگ انیس سو پچیاسی کی یاد دلارہی ہے،اس وقت بھی ایک ہی شخص کی ہلاکت نے سب کو ہلاک کر رکھ دیا تھا۔ ٹوٹینہم میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب Dugganکی ہلاکت کے بعد شروع ہونیوالے فسادات سے برمنگھم ، مانچسٹر، لیور پول اور برسٹل بھی نہ بچ سکے ،برمنگھم میں ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگادی گئی۔ اونچی اونچی عمارتیں اور حسین نظارے آگ کے انگارے بنے ہوئے ہیں۔ ہیکنی ، پیکہم ، Croydon، Lewisham وول وچ اور کلیپ ہم سمیت آٹھ اضلاع میں شدید ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات ہوئے۔ گذشتہ روز کروئیڈن میدان جنگ بنا رہا،جہاں سو سال پرانی فرنیچر مارکیٹ کو بھی جلادیا گیا۔ ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں اب تک گرفتار سوا تین سو سے زائد افراد میں انہتر پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے، ہنگاموں کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے، اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے مختلف مقامات پر سترہ سو اضافی اہلکار تعینات کردیے ہیں ،،فسادات کے باعث وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ، نائب وزیر اعظم نک گلیگ ، وزیر داخلہ اور لندن کے میئر چھٹیاں مختصر کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔