تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
10 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:50

سرفراز شاہ قتل کیس،12اگست تک فیصلہ محفوظ

جنگ نیوز -


کراچی…کراچی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سرفراز شاہ قتل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ 12 اگست تک محفوظ کرلیاہے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کے سامنے ملزمان رینجرزاہلکاروں شاہد ظفر،محمد افضل، بہاء الرحمان ،محمد لیاقت،منٹھار علی،محمد طارق اور پارک کے چوکیدارافسرخان کوپیش کیاگیا۔دوران سماعت مقدمے کے مرکزی ملزمان شاہدظفراورمحمدافضل کے وکیل شوکت حیات ایڈووکیٹ اورافسر خان کے وکیل عامر وڑائچ نے اپنے حتمی دلائل میں کہاکہ سرفراز شاہ قتل کیس میں گرفتار رینجرز اہلکار ڈیوٹی پر تھے،جے آئی ٹی رپورٹ اور انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کابیان بھی یہی ثابت کرتاہے کہ واقعہ دہشتگردی نہیں۔انہوں نے کہاکہ واقع کی تفتیش صرف میڈیا پر چلنے والی فوٹیج کے گرد گھومتی ہے، فوٹیج سے ہٹ کر جائے وقوع کے شواہد پر غور کیاجائے تو سرفراز شاہ وہاں ڈکیتی کے الزام میں پکڑا گیا تھاانہوں نے کہاکہ سرفراز شاہ کوگولی لگی لیکن جائے وقوع پر تمام معاملات معمول کے مطابق چلتے رہے۔انہوں نے دلیل دی کہ رینجرزاہلکاروں نے ارادری طور پریامنصوبہ بندی سے گو لی نہیں چلائی۔اتفاقی واقعہ کو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں لایا جاسکتا۔اگر رینجرز اہلکار جان بوجھ کرگولی مارتے تو اسے نہ تو پانی پلاتے اور نہ ہی اسپتال پہنچاتے۔استغاثہ کے وکیل اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر محمد خان برڑو نے اپنے دلائل سمیٹتے ہوئے کہاکہ چشم دید گواہوں نے ساتوں ملزمان کو شناخت کیا، شواہد اور24 گواہوں کے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان نے بربریت سے سرفراز شاہ کا قتل کیا،اس لئے انہیں سزائے موت دی جائے۔عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر مقدمے کا فیصلہ بارہ اگست تک محفوظ کرلیا ہے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.