10 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:50
لندن میں 4 روزقبل شروع ہونیوالے فسادات دوسرے شہروں تک پھیل گئے
جنگ نیوز -
لندن ... لندن میں 4 روز پہلے شروع ہونے والے فسادات دوسرے شہروں تک پھیل گئے ہیں۔ تاہم لندن میں آج نسبتاً سکون ہے جہاں ہزاروں اضافی پولیس اہل کار تعینات کردیئے گئے ہیں۔منگل کو لندن میں لوٹ مار کے واقعات میں کمی دیکھی گئی لیکن مانچسٹر اور برمنگھم میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مانچسٹر کے مرکزی علاقے میں سیکڑوں مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراوٴ کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہل کار پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔ شرپسندوں نے کئی دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹ لیا اور دکانوں کو آگ لگادی۔ شہر کا مرکزی شاپنگ مال Arndale بھی توڑ پھوڑ سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ ادھربرمنگھم کے قریب ویسٹ برومچ کے علاقے میں بھی200 سے زائد شر پسندوں نے پولیس اہل کاروں پر حملہ کردیا۔مشتعل افراد نے اس علاقے میں کئی گاڑیوں کو آگ لگادی اور متعدد دکانیں بھی لوٹ مار کے بعد جلادیں۔ ولور ہیمپٹن کے علاقے میں بھی کئی دکانیں لوٹ لی گئیں۔ لندن میں امن و امان قائم کرنے کے لئے مزید دس ہزار پولیس اہل کار تعینات کردیئے گئے ہیں جس کے بعد پولیس اہل کاروں کی تعداد 16 ہزار ہوگئی ہے۔ لندن میں آج نسبتاً سکون رہا اور اس شہر کے باسیوں نے تین دن بعد سکون کا سانس لیا ہے۔ پیر کو لندن کے جنوبی علاقے کروٴئے ڈن میں فسادات کے دوران زخمی ہونے والا شخص ہلاک ہوگیا۔ فسادات میں اب تک 111 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ اب تک پانچ سو تریسٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے ایک سو پانچ افراد پر لوٹ مار کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ لندن سمیت کئی علاقوں میں لوٹ مار اور جلاوٴ گھیراوٴ میں ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ لندن میں فسادات کا سلسلہ ہفتے کو ٹوٹن ہام کے علاقے میں ایک شخص کی مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے جن سے پتا چلتا ہوں کہ پولیس فائرنگ سے ہلاک شخص مارک ڈگن کے پاس سے ملنے والی پستول سے گولی چلائی گئی ہو ۔