11 اگست 2011
وقت اشاعت: 11:1
نئے صوبوں پر بحث کے دوران پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ
جنگ نیوز -
لاہور…الگ صوبے کے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی،اپوزیشن کو غدار کہاگیا،ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی اور دھکے دیئے، جس پر اسپیکر نے اجلاس ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا۔ اپوزیشن کی ریکوزیشن پرطلب کئے گئے اجلاس میں ایجنڈے کی بجائے پنجاب میں نئے صوبے کی قیام کا معاملہ ہی چھایا رہا، مسلم لیگ ق کے چوہدری ظہیر نے جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے اپنی قرارداد کے حق میں دلائل دیئے جس کے بعد اپوزیشن لیڈرراجا ریاض نے تقریرکی اس دوران حکومتی ارکان بار بار مداخلت کرتے رہے تاہم راجا ریاض کا کہنا تھا کہ اگرجنوبی پنجاب کو صوبہ نہ بنایا گیا تووہ لوگ چھتروں سے اپنا مطالبہ تسلیم کرالیں گے، ایم ایم اے کے علی حیدر نور نیازی نے صوبہ تھل کے لئے جمع کی گئی قرارداد کے حق میں دلائل دینا شروع کردیئے، انہوں نے کہا کہ لسانیت اور عصبیت کی بنیاد صوبوں کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن ارکان غدار ہیں جو پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں اور تعصب کی آگ لگانا چاہتے ہیں، اپوزیشن کو غدار کہنے پر کسی رکن نے علی حیدر کو ایجنڈے کی کاپی دے ماری جس پر وہ مشتعل ہوکر اپوزیشن کی نشستوں کی جانب بڑھے جہاں پی پی کی فوزیہ بہرام نے پہلے انہیں پیچھے سے کھینچا اور پھر دھکے دیئے جس پردونوں میں تلخ جملوں اوت غلیظ الفاظ کا تبادلہ ہوا، بعض ارکان نے بیچ بچاوٴ کرادیا اور جب علی حیدر اپنی نشست پر آئے تو فوزیہ بہرام نے ان کے نشست پر آکر پھر انہیں دھکا دے دیا، جس پر ایوان میں دوبارہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور اسپیکر کی جانب سے آرڈر آرڈر کے الفاظ کارگر ثابت نہ ہوئے انہوں نے اجلاس ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا۔