15 اگست 2011
وقت اشاعت: 17:3
کمشنری نظام کی بحالی تک حکومت سے بات نہیں کرینگے،جلال محمود شاہ
جنگ نیوز -
حیدر آباد…سندھی قوم پرست رہنماوں سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی اور ایاز لطیف پلیجو نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کمشنری نظام کی بحالی اور کراچی حیدراباد کی پرانی حیثیت کو بحال کرنے تک حکومت سے بات چیت نہیں کی جائے گی ،13 اگست کی ہڑتال نے سندھ کارڈ کو پھاڑ کر پیپلز پارٹی کے پردہ چاک کردیا ہے۔یہ بات انہوں نے قاسم آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے قاسم آباد میں سندھ ترقی پسندھ پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اور عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ۔سید جلال شاہ نے ڈاکٹر قادر مگسی سے ان کے کارکن کے قتل پر تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی۔ ان رہنماوں نے کہا کہ تیرہ اگست کوسندھ بھر میں کمشنری نظام کو ختم کرنے کے خلاف کی جانے والی ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدراباد کے عوام نے اسلحے کی سیاست کو مسترد کردیا ،اور وہ دہشتگردی نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔صدرآصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، بنگالیوں، بلوچوں اور پختونوں سے تومعافی مانگ لی لیکن جس سندھ قوم نے انہیں پانچ مرتبہ اقتدار تک پنچایا ان سے معافی مانگنے کو اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں پیپلز پارٹی ،سندھی عوام اور اسٹیک ہولڈرز ے ایماندارانہ انداز میں ڈیل کرے گی توسندھی عوام ان سے صحیح رویہ رکھنے کے بارے میں سوچیں گے ورنہ پیپلز پارٹی کے وزراء کلفٹن سے باہر نہیں نکل سکیں گے،اور نہ ہیپیپلز پارٹی اندرون سندھ کے شہروں اور دیہاتوں میں آسکے گی۔