16 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:36
کراچی میں لوٹ مار میں اضافہ،24گھنٹے میں105وارداتیں
جنگ نیوز -
کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی میں مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردوں کے بعد لگتا ہے کہ ڈاکووٴں نے بھی کمر کس لی ہے۔ مختلف ورداتوں کے دوران مزاحمت پرفائرنگ سے لندن پلٹ شہری ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ جبکہ پولیس یا شہریوں کو تحفظ دینے کے ذمے دار ادارے کچھ کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی مجموعی طور پر 105 وارداتیں ہوئیں۔ مختلف علاقوں سے 68 موٹر سائیکلیں، 23 کاریں اور چودہ موبائل فون بھینے یا چور ی کئے گئے۔ پولیس کے مطابق لانڈھی میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ملزمان کی فائرنگ سے 40 سالہ جاوید خان ہلاک ہوگیا تھا۔ مقتول لندن کے ایک اسکول میں ٹیچر تھا جو چند روز قبل بیٹے کے ہمراہ عید منانے کے لئے کراچی آیا تھا۔ اور لانڈھی بابر مارکیٹ میں شاپنگ سے واپسی پر نشانہ بنا۔ گلبہار میں دکان پر ڈکیتی کی دوران مزاحمت پر فائرنگ سے 25 سالہ فرحان، نیوکراچی کے علاقے گودھرا کیمپ میں ایوب جبکہ اولڈ سٹی ایریا میں رہا گیر تقی زخمی ہوگیا۔ سائٹ میں نورس چورنگی اور مزار قائد کے قریب مسلح افراد نے دو افراد سے موٹر سائیکلیں چھین لیں۔ کراچی میں بھتہ مافیہ کی جانب سے بھاری رقوم کے مطالبات سے تنگ اور دستی بموں کے حملوں سے دہشت زدہ پاک کالونی کے دکانداروں نے آج احتجاجاً ماربل مارکیٹ بند کردی ہے۔ جبکہ پولیس کی جانب سے مارکیٹوں میں مطلوبہ سیکورٹی فراہم نہ کئے جانے پر شہر بھر کی مارکیٹ بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیت گروپوں، جرائم پیشہ افراد اوراسٹریٹ کرمنل مختلف کارروائیوں کے دوران خواتین سمیت 36 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ، لوٹا گیا سامان اور اسلحہ برامد کرلیا گیا ۔ پولیس حکام جرائم میں کمی کے اعداوشمار میڈیا پر جاری کرکے اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن لوٹ مار کی وارداتوں میں کمی دکھائی نہیں دے رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کوئی کارروائی نہیں کرتی جس کی وجہ سے شہری ایسی وارداتوں کی رپورٹ ہی درج نہیں کراتے۔