16 اگست 2011
وقت اشاعت: 10:31
بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ، پاک بھارت جنگ کے دہانے پر تھے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
کراچی… رفیق مانگٹ… بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ نے صدر سے افضل گرو کی رحم کی اپیل مسترد کرنے سفارش کردی ہے،یہ سفارش اس وقت سامنے آئی جب بھارتی صدر نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزائے موت کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی ۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے واقعہ نے پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے صدر مملکت پرتبھا پاٹل سے درخواست کی ہے کہ وہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم محمد افضل گرو کی رحم درخواست مسترد کر دیں اور ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کرنے دیا جائے،مرکزی وزارت داخلہ نے افضل گرو کی رحم کی درخواست مستر د کرنے سے متعلق دستاویزات صدر مملکت سکریٹریٹ کو گزشتہ 27 جولائی کو بھیج دی تھی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ اپنی درخواست میں دہلی کی ریاستی حکومت کے افضل گرو کو پھانسی دینے کے موقف کے ساتھ ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی صدر نے اسی طرح کی تین رحم کی اپیلیں مسترد کردی تھیں جو تامل باغیوں کے خلاف تھیں انہیں مئی 1991میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل میں عدالت نے 2000میں سزائے موت سنائی تھی۔داخلی امور کے وزیرمملکت ملا پلی رام چندرن کے مطابق حکومت نے افضل گرو کی رحم کی درخواست مسترد کرنے کی سفارش کی ہے جسے صدر مملکت کو بھیج دیا گیاہے۔ لیکن اس پر کوئی فیصلہ کرنے کے لیے آئین میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے۔ صدر جب تک چاہیں اسے اپنے پاس رکھ سکتی ہیں، سزائے موت کے قیدیوں کی فہرست میں افضل گرو22ویں نمبر پر ہے ،آئین کے مطابق بھارتی صدر مملکت حکومت کی سفارشات کی پابند نہیں ،ان کے پاس کسی مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر نے کا آئینی حق ہے،وہ آئین کی دفعہ 72 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا حق رکھتی ہے ۔ اس وقت بھارتی صدر کے پاس سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے رحم کی تقریباً پچاس درخوستیں زیر التوا ہیں۔1995سے اب تک بھارت میں دو افراد کی سزائے موت پر عمل ہوا۔ آخری بار سزائے موت پر عمل درآمد2005میں کیا گیا۔افضل گرو کی اپیل کا فیصلہ بھارتی صدر کی صوابدید پر ہے۔ اخبار کے مطابق 13 دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمینٹ پر حملے کاواقعہ رونما ہواجس میں8سیکورٹی اہلکار اور ایک مالی سمیت نوافرادہلاک ہوئے۔ ابتدائی تفتیش میں4افراد کو حراست میں لیا گیا۔ 18 دسمبر2002 ء میں ٹرائیل کورٹ نے ان میں سے دو کو بری کردیا ،دو کو سزائے موت سنائی ان میں سے ایک کی سزائے موت کو بعد میں دس سال کی قید میں بدل دیا گیا اور صرف افضل گرو کی سزا ئے موت کو برقرار رکھا گیا۔ اس سزا کے فیصلے کو 28 اکتوبر2003 میں دہلی ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیالیکن 4 اگست 2005کو سپریم کورٹ نے بھی اس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے کی تو ثیق کی۔ایک سیشن کورٹ نے افضل کو 20 اکتوبر 2006 کو تہاڑجیل میں پھانسی پر لٹکائے جانے کی تاریخ مقرر کی تھی،لیکن ان کی بیوی تبسم کی طرف سے رحم کی اپیل پرگرو کی پھانسی موٴخر کر دی گئی۔یہ رحم کی اپیل 2006سے التوا میں پڑی رہی۔افضل گرو کو پھانسی دینے کا معاملہ بھارت میں ایک سیاسی تنازعے کی شکل اختیار کر چکا ہے،بی جے پی نے افضل گرو کی رحم کی اپیل مسترد کرنے کی حکومتی سفارش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے کو جلد ہی پھانسی دی جائے گی، کانگریس کا کہنا ہے کہ فیصلے کا انحصار صدر کی صوابدید پرہے۔ممبئی حملوں کے الزام میں اجمل قصاب کی سزائے موت کے فیصلے کے بعد بھارت میں مختلف طبقے افضل گرو کی سزائے موت پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔امریکی اخبار کے مطابق پارلیمنٹ پر حملے کے اس واقعے نے بھارت اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیاتھا۔