16 اگست 2011
وقت اشاعت: 10:31
بدین:کیمپوں میں متاثرین خوراک اور صاف پانی کے منتظر
جنگ نیوز -
بدین…ضلع بدین میں طوفانی بارش سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی شدیدقلت پیدا ہوگئی ہے۔ اورکھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ متاثرین میں بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔ادھر نالہ ڈیک میں طغیانی کے بعد اب بھی کئی دیہاتوں میں پانی کھڑاہے۔آفت زدہ قرار دیئے گئے ضلع بدین کی پانچوں تحصیلوں میں کھلے آسمان تلے پڑے افراد اور ریلیف کیمپوں میں موجود پناہ گزینوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ضلع میں کھانے پینے کی اشیاء کی طلب اچانک بڑھنے سے قیمتو ں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ دو روز میں ایک من آٹے کی قیمت گیارہ سو پچاس روپے سے بڑھ کر بارہ سو پچاس روپے ہوگئی ہے۔ چینی 68 روپے سے 80 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ سبزیوں ، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں بھی دس سے بیس فیصد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی اور صحت و صفائی کے ناقص انتظام کی وجہ سے متاثرین میں بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔سول اسپتال کے باہر پانی جمع ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامناہے۔ ٹیکنیکل کالج گولاڑچی ریلیف کیمپ میں پیٹ کی بیماری کے سبب پانچ سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ادھر بارش سے متاثرہ افراد نے میرپورخاص سے نوکوٹ تک 110 کلو میٹر طویل سڑک کے کنارے پناہ لی ہوئی ہیٹنڈوالہ یار ، چمبڑ اور جھنڈو مری کے علاقے اب تک زیر آب ہیں اور یہاں کھانے پینے کے سامان کی شدید قلت ہے۔۔ ٹھٹھہ کے سیم نالوں میں بدین سے آنے والے پانی نے تباہی مچا دی ہے۔ پانچ سے زائدمقامات پر پڑنے والے شگاف سے درجنوں دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ گجرانوالہ میں نالا ڈیک میں طغیانی کے بعد متاثرہ 6 دیہات کا زمینی رابطہ تو بحال ہوچکا ہے تاہم باقی دیہات میں اب بھی بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔