16 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:57
این ایل سی کی ناقص کارکردگی،سینٹ کمیٹی اجلاس میں تنقید
جنگ نیوز -
اسلام آباد…این ایل سی کی پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی ناقص کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی، سرمایہ داروں سے کروڑوں روپے وصول کر کے سامان طورخم سے آگے لے جانے سے انکار کر دیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کامرس کا اجلاس اسلام آباد میں سینٹر الیاس بلور کی زیر صدرات ہوا جس میں سرمایہ کاروں نے بتایا کہ این ایل سی نے سامان افغانستان پہنچانے کے لیے کرڑوں روپے وصول کیے مگر کوئی ڈرائیور طورخم سے آگے جانے کو تیار نہیں اور کنٹینرز سڑک پرہی اتار دیے گئے ہیں۔ کمیٹی ارکان نے این ایل سی کی کارکردگی پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ اس کے پاس اپنا ایک ٹرک بھی نہیں ، کمپنی صرف مال بنانے کے لیے کرائے پر ٹرک لیتی ہے اور کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ تاجروں کو درپیش مشکلات حل کی جائیں گی۔ ممبر کسٹمز ممتاز حیدر رضوی نے بتایا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے چار کمپینیز انشورنس پر تیار ہو گئی ہیں جب کہ کنٹینرز کی ٹریکنگ کے لیے تین کمپینیزکو فائنل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ٹرانزٹ ٹریڈ میں ٹرانس شپمنٹ کی اجازت نہیں۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر کسٹمز کے 600 افسر اور اہل کارمعطل ہیں جب کہ 400 کی جائیداد سے متعلق انکوائری چل رہی ہے۔