16 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:57
انا ہزارے کی گرفتاری ،بھارت بھر میں مظاہرے و گرفتاریاں
جنگ نیوز -
نئی دہلی… بھارتی پولیس نے ملک میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف مہم چلانے والے سماجی کارکن انا ہزارے کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں اور سینکڑوں لوگوں نے گرفتاریاں بھی دی ہیں۔ انا ہزارے پارلیمان میں انسدادِ رشوت ستانی کے حوالے سے ایک مضبوط اور طاقتور بل پیش کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اناہزارے نے حکومت کے موجودہ لوک پال بل کے مقابلے میں ایک متبادل جن لوک پال بل حکومت کو پیش کیا ہے جس میں وزیراعظم اور عدلیہ کو بھی لوک پال کی تفتیش کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے لیکن حکومت اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انا ہزارے نے گرفتاری سے پہلے جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پورے ملک میں گرفتاریاں دیں۔ داخلہ سیکرٹری آر کے سنگھ نے انا کی گرفتاری کا جواز دیتے ہو ئے کہا کہ انا ہزارے نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرنا دیں گے ، اس لیے انہیں گرفتار کرنا پڑا۔ نئی دہلی کی انتظامیہ نے جے پی پارک اور دیگر کئی علاقوں میں دفعہ ایک سو چوالیس بھی لگا دی ہے اور وہاں چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے۔ انا ہزارے کے ساتھ جدوجہد میں مصروف سابق پولیس افسر کرن بیدی نے الزام لگایا کہ یہ گرفتاری کانگریس پارٹی کے کہنے پر ہوئی ہے۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنا ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ اس وقت سوال لوک پال بل کے بارے میں اختلافات کا نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک شخص جس نے بد عنوانی کے خلاف پرامن مہم چلا رکھی ہے اسے احتجاج کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اپوزیشن رہنما ایل کے ایڈوانی نے کہا ہے کہ انہیں انا ہزارے کی گرفتاری پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے کیونکہ حکومت اسی سمت میں بڑھ رہی ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت بد عنوانی پر قابو پانے اور اس اس کی ذمے داری لینے کے بجائے قربانی کا بکرا تلاش کر رہی ہے۔ دریں اثناء ملک کے کئی شہروں میں انا ہزارے کی حمایت میں مظاہرے بھی شروع ہو گئے ہیں جبکہ دہلی اور دیگر شہروں میں سینکڑوں لوگوں نے گرفتاریاں دی ہیں۔