تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
17 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:28

زرداری حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں ناکام، فنانشل ٹائمز

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ…برطانوی اخبار”فنانشل ٹائمز“ کے مطابق پاکستان کے غیر مقبول صدر آصف علی زرداری ملک کے سب سے بڑے شہر میں تشدد کے خاتمے ناکام اور امن قائم کرنے میں کمزور ثابت ہوئے، پاکستانی عوام فوجی حکومت سے دکھاوے کی جمہوریت کی طرف سفر پر تذبذب کاشکار ہیں کہ یہ سفر ملک کو زیادہ استحکام دے گا یا اس کے ٹکڑے کر دے گا، کراچی میں تشدد ملک کے طویل مدتی استحکام اور مغربی ممالک کی سلامتی کے لیے وارننگ ہے،کراچی کے علاوہ پاکستان کا کوئی دوسرا ایسا شہر نہیں ،جہاں بندوق کی سیاست ، لسانی اورنسلی کشیدگی ، فرقہ وارانہ تناوٴ ، ریاستی کمزوری ، عسکریت پسندی اور منظم جرائم ہوں، کراچی آج پریشر ککر بن چکا ہے،سفاکانہ طرز عمل نے ایک طاقت پکڑ لی ہے،ناقص اسلحے سے لیس اور کم نفری پر مشتمل پولیس طاقتور سیاستدانوں کے خوف سے قاتلوں کو پکڑنے سے ڈرتی ہے، سیکورٹی اداروں کو حکومت کی طرف سے ٹارگٹ کلرزکو گرفتار کرنے کی نہیں بلکہ ان پر نظر رکھنے کی ہدایت ہے۔ برطانوی اخبار کراچی پر اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عظیم اقتصادی انجن کراچی پر کنٹرول کرنے کے لئے سست مگر تسلسل کے ساتھ جنگ جاری ہے۔کراچی نے ماضی میں بھی ایسے سنگین حالات دیکھے ہیں، اس وقت پاکستانی فوج نے کراچی کی گلیوں میں مسلح جھڑپوں کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا تھا۔کراچی میں قتل کے واقعات میں تسلسل دو حریف سیاسی جماعتوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات کی وجہ سے ہے جن کی بنیادیں پشتون اور مہاجروں سے ملتی ہیں۔رواں موسم گرما میں تشدد نئی بلندیوں تک جا پہنچا۔ پیچیدہ بستیوں اور کٹی پہاڑی پر مشتمل شہر میں فائرنگ اور دستی بم کے حملوں میں جولائی میں 300 سے زائد زندگیوں کے چراغ گل ہوگئے۔اس لحاظ سے جولائی سب سے بدترین ماہ ثابت ہوا۔ پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن کے مطابق رواں برس 800 سے زائد افراد کو کراچی میں ہلاک کیا گیا۔ ہر روز قتل کے واقعات ہورہے ہیں ۔ پاکستا ن کے غیر مقبول صدر آصف علی زرداری 160ارب ڈالر کے معاشی حب،اسٹاک ایکس چینج اور اہم ترین بندرگاہ کے حامل ملک کے سب سے بڑے شہر میں تشدد کے خاتمے اور اسے امن قائم کرنے میں کمزور ثابت ہوئے۔ درحقیقت کراچی میں تشدد ملک کے طویل مدتی استحکام کے لیے ایک ہلکا سا انتباہ ہے جس کے نتائج مغرب کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔پاکستان کے افغانستان میں کردار پرامریکا اور یورپ کے خدشات اپنی جگہ پر ہیں۔ پاکستانی فوج میں اسلامی عسکریت پسندوں سے تعلقات اور جوہری ہتھیاروں کی سیکورٹی کے بارے بھی دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ان درپیش خطرات میں مئی میں امریکی نیوی سیلز کی جانب سے اسامہ کی ہلاکت نے مزید اضافہ کردیا ہے۔ کراچی میں قتل عام کی نسبتاًبظاہر وجوہ سیاسی یا مقامی ہوسکتی ہیں ۔ لیکن یہاں گہرے ہوتے تنازعات پاکستان کی ترقی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کراچی کے علاوہ پاکستان کا کوئی دوسرا ایسا شہر نہیں،جہاں بندوق کی سیاست ، لسانی اورنسلی کشیدگی، فرقہ وارانہ تناوٴ ، ریاستی کمزوری ، عسکریت پسندی اور منظم جرائم ہوں یہ تمام عوامل ملک کوکمزور بنا تے ہیں۔یہ ان رجحانات کا تعین ہے کہ فوجی حکومت سے دکھاوے کی جمہوریت کی طرف سفر پر پاکستانی ہچکچا رہے ہیں، یہ سفر ملک کو زیادہ استحکام دے گا یا اس کے حصے بکھیر دے گا۔ کراچی کی مقامی این جی او کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ہم قومیت میں نہیں ڈھل رہے بلکہ ہم نسلی گروہوں میں بٹ کر تقسیم ہو رہے ہیں ۔ شہریوں کے آپس میں اور ریاست کے ساتھ سماجی ناتے تباہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ 50 سال کے دھماکہ خیز جغرافیائی خدوخال سے کراچی آج پریشر ککر بن چکا ہے۔ اگرچہ کراچی طویل عرصے سے نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہے ،تاہم یہ شہر ملک کے سب سے زیادہ لبرل ، سیکولر شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ کراچی کو نیول بیس پر عسکریت پسندوں کے حملے جیسی دہشت گردی کی کارروائیوں کا بھی سامنا رہاہے۔ کراچی میں2000سے2006تک سالانہ اوسطاً قتل کے واقعات دو سو سے کم رہے، 2008 تک قتل کے واقعات کی تعداد سالانہ8 سو تک جا پہنچی،2009سے اب تک قتل کے واقعات کی تعدادسالانہ8سو سے14سو کے درمیان ہوگئی۔ 2009-10میں کراچی سے سالانہ ملک کا79فیصد کسٹم ڈیوٹیز،44فیصد ڈائریکٹ ٹیکسز اور58فیصد سیلز ٹیکسز حاصل ہوئے۔ کراچی میں تشدد کی کارروائیاں ووٹوں پر کنٹرول کے لیے ہیں۔ تنازعات سے بھری سیاست کا یہ کھیل کسی اور جگہ نہیں دیکھا جیسا کراچی میں ہے۔اخبار کہتا ہے کہ جتنا زیادہ لوگ خوفزدہ ہوں گے، اتنا ہی وہ اپنے تحفظ کیلئے ان جماعتوں کی طرف رخ کریں گے اور اس سے ان کے رہنما زیادہ طاقت ور بن جائیں گے۔کراچی میں قتل صرف سیاسی پارٹیوں کے سرگرم رکن ہی نہیں ہوتے بلکہ عام لوگوں،مسافروں ، ٹیکسی ڈرائیوروں اور دکانداروں کو بھی اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اپنے تحفظ کی خاطر درجنوں تاجروں نے بندوق کے لائسنس کے لئے درخواستیں دی ہوئی ہیں۔ریاست بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ انصاف سے وابستہ توقعات کم ہیں۔ناقص اسلحے سے لیس اور کم نفری پر مشتمل پولیس طاقتور سیاستدانوں کے خوف سے قاتلوں کو پکڑنے سے ڈرتی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.