17 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:24
این آئی سی ایل کیس، ظفر قریشی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تفتیش جاری رہے گی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ڈی جی ایف آئی اے نے این آئی سی ایل کیس کی تفتیش میں اپنے جونیئر کے ماتحت کام کرنے سے انکارکرتے ہوئے مستعفی ہونے کااعلان کردیا، ایف آئی اے کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے سپریم کورٹ کو بتایاہے کہ لاہورآفس میں بم کی افواہ صرف ظفرقریشی کوروکنے کیلئے اڑائی گئی تھی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کے مقدمہ کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے تحسین شاہ نے کیس کی اب تک کی تفتیش کا ریکارڈ پیش کیا اور یہ بھی کہاکہ وہ تفتیشی ٹیم میں کیسے اپنے نائب کے ماتحت کام کرسکتے ہیں، انہوں نے نے مستعفی ہوجانے کا کہاتو عدالت نے انہیں کہا کہ جاکر تفتیش کریں، ایسا نہیں کرسکتے تو مجازاتھارٹی کو جاکراستعفیٰ دیدیں، ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی خواجہ حماد نے بتایا کہ انہیں ڈائریکٹر وقار حیدر نے کہا تھا کہ بہت دباوٴ ہے اور کسی بھی طرح ظفرقریشی کو دفتر نہیں آنے دینا، خواجہ حماد نے کہا کہ مونس الٰہی کے جوڈیشل ریمانڈ کے وقت بھی اسی طرح بم کی افواہ پھیلائی گی تھی،عدالت نے وقارحیدرسے آئندہ سماعت پر تحریری جواب طلب کرلیا، آج مونس الٰہی کی طرف سے بابر اعوان بطور وکیل پیش ہوئے اور ظفرقریشی پر جانب دار ہونے کا الزام عائد کیا،چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی سمجھتاہے کہ ظفرقریشی ریٹائرہوجائے گا اور تفتیش نہیں ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا، عدالت نے تفتیشی ٹیم کو کہا کہ کوئی دباوٴ ڈالے رجسٹرارسپریم کورٹ کو بتائیں، عدالت نے بم افواہ کے مقدمہ پر آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔