تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
18 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:11

کراچی خون میں نہلادیا گیا،رات سے اب تک22ہلاک،محافظ خاموش

جنگ نیوز -


کراچی…افضل ندیم ڈوگر…ماہ صیام میں بھی کراچی میں امن قائم نہ ہوسکا۔ شہر میں راکٹ لانچرز، دستی بم حملوں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ گذشتہ روز سابق رکن قومی اسمبلی سمیت 16 افراد قتل کئے گئے ۔ رات سے اب تک 8گھنٹوں میں پرتشدد واقعات میں مزید22 افراد موت کا شکار ہوگئے۔ کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کے دوران گذشتہ روز ہلاک کئے گئے افراد کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ آج صبح سورج طلوع ہوتے ہی مختلف علاقوں سے پھر لاشیں ملنے اور فائرنگ و پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آج صبح سویرے بلدیہ ٹاوٴن نمبر تین، لیاری میں لی مارکیٹ، شیر شاہ میں پنکھا ہوٹل، لیاری میں پرانے ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ، گارڈن میں چڑیا گھر کے قریب، منگھوپیراور دیگر علاقوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تمام افراد کو مختلف مقامات سے اغوا کرکے تشدد کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے بوریوں میں بند ملنے والی بیشتر لاشوں کی جیبوں سے پرچیاں بھی برآمد ہوئیں جن پر’ امن چاہئے یا جنگ یامزید بھیجیں ‘کے سخت الفاظ درج ہیں۔ پولیس کے مطابق شیر شاہ میں پنکھا ہوٹل کے قریب سے جس ہائی روف گاڑی سے چار افراد کی لاشیں ملیں وہ ایک موبائل فون کمپنی کی ہے۔ ان میں سے دو لاشوں کی شناخت موبائل فون کمپنی کے ملازم جاوید اور عمران کے ناموں سے ہوئی۔ بلیہ ٹاوٴن سکیٹر 19 ڈی سے ملنے والی چار لاشوں میں سے ایک کی شناخت لیاری فائر بریگیڈ اسٹیشن کے اسٹیشن آفیسر لیاقت ظفر فاروقی کے نام سے ہوئی۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق لیاقت فاروقی کو میراں ناکہ پر واقع فائر اسٹیشن سے فائرمین عرفان کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا عرفان کا سراغ نہیں مل سکا۔ بلدیہ ٹاوٴن میں ہی فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ اس علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ بلدیہ ٹاوٴن تھانے پر بھی فائرنگ کی گئی جبکہ بلدیہ ٹاون نمبر 3 میں میرعالم روڈ پر ایک راکٹ بھی فائر کیا گیا۔ اولڈ سٹی ایریا کے علاقے رنچھوڑ لائن میں ایک پارک کے قریب بھی دستی بم پھینکا گیا۔ کھارادر سمیت شہر کے مختلف مقامات پر گذشتہ روز فائرنگ، راکٹ اور دستی بم کے حملوں میں پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے واجہ کریم داد سمیت 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے بعد سے اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، رنچھوڑ لائن ، رسالہ، نیپئر اور بلدیہ ٹاوٴن میں سخت کشیدگی برقرار ہے۔ کشیدگی والے بعض علاقوں میں رینجرز اور پولیس اہلکار دکھائی تو دے رہے ہیں تاہم دہشت گردوں کے خالف کوئی موثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.