18 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:11
بدین کے ریلیف کیمپ تکلیف کیمپ میں تبدیل،مچھروں کی بھرمار
جنگ نیوز -
بدین…ٹھٹھہ اور میر پور خاص کے سیم نالوں اور نہروں میں مزید شگاف پڑ گئے لیکن شگاف کو بندکرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیاگیا۔بدین میں قائم ریلیف کیمپ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن گئے۔ضلع میر پور خاص میں تین روز کے دوران جمڑاوٴ کینال،مٹھڑاوٴ کینال اور مختلف سیم نالوں میں ایک درجن سے زائد شگافوں نے مزید تباہی مچائی ہے۔جْھڈو ،نوکوٹ ،میرواہ اور ٹنڈو جان محمد کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔نوکوٹ کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے میں پڑنے والے100 اور 50 فٹ کے شگافوں نے نوکوٹ اور ڈیپلو تحصیلوں کیایک درجن سے زائد دیہات اور سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی غرق کردی۔بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندانوں نے سڑکوں اور پشتوں پر پناہ لے رکھی ہے۔حکومتی امداد ور ادویات کی عدم فراہمی کے باعث ان افراد میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ادھر ٹھٹھہ میں شاخ پور،دیوان ،اور لْنڈ ا مچھارو سیم نالوں میں پڑنے والے آٹھ شگاف ابھی پر نہ کئے جاسکے تھے کہ ان تینوں سیم نالوں سمیت پانچ سیم نالوں میں مزید آٹھ مقامات پر شگافوں نے مزید تباہی مچائی ہے۔اب تک جاتی ،میر پور بٹھورو اور مختلف علاقوں میں اسی دیہات زیر آب آچکے ہیں۔تاہم کسی بھی متاثرہ علاقے میں ریسکیو کا کام شروع نہیں کیا گیا۔متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت ہی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں۔ بدین میں قائم ریلیف کیمپس بھی حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بنے ہوئے ہیں۔لٹے پٹے متاثرین اب ریلیف کیمپوں میں بھی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔متاثرین نے آٹھویں روز بھی سوکھی روٹی اوررات کے بچے ہوئے کھانے سے سحری کی۔جبکہ کیمپ میں گندگی اور مچھروں کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔