18 اگست 2011
وقت اشاعت: 14:51
کراچی میں موت کا رقص جاری،کل سے اب تک 47ہلاکتیں
جنگ نیوز -
کراچی . . . . . افضل ندیم ڈوگر…کراچی میں لیاری اوراس سے ملحقہ اولڈ سٹی ایریازمیں پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں،فائرنگ کے واقعات میں گزشتہ17گھنٹوں کے دوران 31افرادکوموت کے گھاٹ اتاردیاگیا ا س طرح کل سے اب تک ہلاک شدگان کی تعداد 47ہوگئی ہے۔ جن میں صرف گھروں،دکانوں اورمسافربسوں سے اغواء کے بعد قتل کئے جانے والے افرادکی تعداد18 ہے۔سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ کے مطابق گزشتہ36گھنٹوں کے دہشت گردی کا شکار ہونیوالے 39افرد کی لاشوں کاپوسٹمارٹم کیا گیا جن میں پانچ کا جناح اور 34لاشوں کا سول اسپتال میں کیا گیاجبکہ 35زخمیوں کے میڈیکل کیس رجسٹرڈ کئے گئے،ایم ایل او کے مطابق بیشتر افراد اپنے پیاروں کی لاشیں بغیر پولیس کارروائی کے لے جارہے ہیں۔ایدھی کے ترجمان امان کے مطابق آج صبح سے 19افراد کی لاشیں ایدھی سردخانے پہنچائی گئی جن میں سے 10کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے،پولیس اور سی پی ایل سی کے ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے 30افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں ،لیاری سے وین سمیت اغواء کئے گئے نجی کمپنی کے 12ملازمین کو اغواء کرنیوالوں نے رہا کردیاجبکہ ایک کو ساتھ لے گئے ،اسی علاقے سے مسافر بسوں سے بھی چار افراد کو اغواء کیا گیاہے تین کو گلستان جوہر سے اغواء کیا گیا ہے۔جبکہ سول اسپتال جناح اور ایدھی کے سینٹرز پر ایسے افراد تواتر سے آرہے ہیں جن کے پیارے رابطے میں نہیں۔شہر میں پر تشدد واقعات کا سلسلہ جو گذشتہ صبح لیاری کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 6 نوجوانوں کی لاشیں مختلف علاقوں سے برآمد ہونے پر شروع ہواتھا۔جس کے بعد شہر میں پر تشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہو ااور بلدیہ ٹاون ،لیاری ،لی مارکیٹ ،ماڑی پور،ٹرک اڈا ،شیر شاہ میں پنکھا ہوٹل ،گارڈن سے نوجوانوں کی بوری بند تشدد زدہ لاشیں ملنا شروع ہو گئیں۔شیر شاہ پنکھا ہوٹل سے ملنے والی لاشیں جن میں دو موبائل کمپنی کے ملازمیں جاوید اور عمران کی تھیں جنھیں لیاری سے اغواء کیا گیا تھا اور لاشیں تین کلو میٹر دور پنکھا ہوٹل سے ملی ،اس دوران پولیس اور رینجرز کا ان ملزمان سے کہیں ٹکراؤ نہیں ہوا۔ بلدیہ ٹاون سے ملنے والی لاش اسٹیشن ماسٹر لیاقت ظفر کی تھی اور زخمی ہونے والا عرفان تھا جنھیں اغوء تو میراں ناکہ لیاری سے کیا گیا مگر ان کی لاش چھ کلو میٹر دور سے بلدیہ ٹاون سے لاش ملی۔ اسپتال لائی گئی لاشیں وہ تھیں جنھیں مختلف علاقوں سے یا تو بوری میں بند کر کے پھینکا گیا تھا یا پھر اغواء کے بعد کچھ کلو میٹر دور لے جا کر فائرنگ کے بعد قتل کیا گیا۔