19 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:44
کراچی میں موت کا رقص جاری،مزید11افراد ہلاک
جنگ نیوز -
کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی میں موت کا رقص جاری ہے آج بھی پرتشدد واقعات میں مزید 11 افراد ماردیے گئے۔ تین دن سے جاری بدامنی کی لہرمیں شہریوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، شہر میں اوسطاً ہر گھنٹے بعد ایک لاش مل رہی ہے۔ پولیس کے مطابق نیو کراچی سیکٹر 11 جی سے ساگر نامی نوجوان کی بوری میں بند تشدد زدہ لاش ملی۔ ایسی ہی دو لاشیں گلبہار کے علاقے خاموش کالونی میں لیاری ندی کے کنارے سے ملیں۔ لیاری کے علاقے بکرا پیڑی اور بغدادی میں کھارادر جماعت خانے کے قریب سے بھی تین افراد کی لاش برآمد ہوئیں۔ گذشتہ روز کی طرح ان افراد کو بھی شہر کے مختلف علاقوں سے اغواء کے بعد تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔ ان لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ گلشن اقبال بلاک 5 اور 3 میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد محمد شریف گبول اور ہوش محمد ہلاک ہوئے۔ پی آئی بی کالونی میں فائرنگ سے مبین احمد جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ کیماڑی کے علاقے شیریں جناح کالونی میں فائرنگ سے انور خان اور شہریار خان موت کا شکار ہوئے۔ کراچی میں تین دن قبل شروع ہونے والی تشدد کی اس لہرمیں دہشت گردوں کے ہاتھوں بدھ کے روز 16 اور جمعرات کو 36 افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کی بوریوں میں بند اور گردن کٹی لاشیں لیاری، بلدیہ ٹاوٴن، شیر شاہ، سعید آباد اور پاک کالونی سمت مختلف علاقوں سے ملی تھیں۔ بیشترلاشوں کے ساتھ دہشت گردوں کی دھمکیوں کے پیغامات پر مشتمل پرچیاں بھی ملیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کھاردار اور لانڈھی شیرپاوٴ کالونی عین افطار کے وقت روزے داروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ نیو کراچی کے علاقے گودھرا کیمپ میں دو گروپوں میں مسلح تصادم میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن بھی کیا۔ اس دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس علاقے میں آج بھی کشیدگی کے باعث پولیس اور رینجرز تعینات ہے۔ لیکن جن علاقوں میں پچاس سے زائد شہریوں کو سڑکوں سے اغواء کرکے قتل کیا گیا وہاں تو پولیس اور رینجرز نے کوئی موثر کارروائی نہیں کی البتہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پرامن علاقوں میں فرضی لاشوں اٹھنے کی مشقیں کرتے ہوئے ضرور دکھائی دیئے۔