20 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:26
امریکی فوج2024 ء تک افغانستان میں قیام کرے گی،انکشاف
جنگ نیوز -
کراچی … رفیق مانگٹ…افغانستان سے امریکی فوج کا 2014 ء تک انخلاء ایک دھوکا ہے،امریکی فوج2024 ء تک افغانستان میں قیام کرے گی۔ افغانستان اور امریکا اس سلسلے میں ایسے اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہے،امریکا ہر صورت پاکستان ،ایران اور چین کے قریب اپنی موجودگی قائم رکھنا چاہتا ہے۔پاکستا ن اور ایران ایسے ممکنہ معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، طالبان بھی ایسے معاہدے کو مسترد کر دیں گے۔ برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکااور افغانستان ایک ایسے اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے جس کی رو سے ہزاروں امریکی فوجیوں کو 2024 ء تک افغانستان میں رہنے کی اجازت ہوگی۔ امریکی اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ ‘ ، ’نیوز ویک‘ کی سائٹ ’ڈیلی بیسٹ‘ اور برطانوی اخبار’دی میل ‘نے بھی اس رپورٹ کو شا ئع کیا ہے، اس معاہدے کے تحت نہ صرف فوجی ٹرینرز کو افغان فوج اور پولیس کی تربیت کے لیے قیام کی اجازت ہو گی بلکہ امریکا کی اسپیشل فورسز اور اور فضائی طاقت بھی موجود رہے گی۔ اس معاہدے کے امکان پر افغانستان کے ہمسایہ ممالک سیخ تا پا ہے جن میں ایران واضح اور پاکستان جزوی اور نجی طور پر اس معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔حامد کرزئی کے امن کونسل کے اعلیٰ عہدے دار کے مطابق اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ایسے ممکنہ معاہدے کوطالبان بھی مسترد کر دیں گے۔اس سے ان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ امریکی فوجیوں کے انخلاء کا عمل شروع ہوچکا ہے اور 2014 ء کے آخر تک افغانستان کی سیکیورٹی کا انتظام کابل کے حوالے کردیا جائے گا۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوج پاکستان ، ایران اور چین کے گرد اپنی موجودگی قائم رکھنا چاہتی ہے۔ افغان اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس دسمبر میں افغانستان پر بون کانفرنس سے پہلے ممکنہ معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدرباراک اوباما اور حامد کرزئی نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر ستمبر میں واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔ کرزئی کے سلامتی کے مشیرا سپانٹا نے اخبارکو بتایا ہے کہ یہ معاہدہ ایک قابل ذکر پیش رفت ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ دسمبر تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا تو انہیں مایوسی ہوگی۔افغان فورسز امریکی لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹر کی موجودگی کواپنی ضرورت سمجھتی ہے ،ماضی میں واشنگٹن حکام 25ہزار امریکی فوجیوں کے افغانستان میں قیام کی ضرورت خیال کرتے تھے۔ڈاکٹر اسپانتا نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی ایران اور پاکستان مخالفت کر رہا ہے۔