20 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:22
کراچی: قتل و غارت گری ، لواحقین کا وزیراعلی ہاوٴس اور پریس کلب کے سامنے احتجاج
آج نیوز - کراچی میں قتل و غارت گری جاری ہے، مزید کئی افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ مقتول نوجوانوں کے شدت غم سے نڈھال لواحقین نے میتیوں کے ساتھ وزیراعلی ہاوٴس اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔عظیم ، اظہر اورعرفان کی نماز جنازہ لیاقت آباد مین روڈ پرادا کی گئی۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد اہلخانہ اور علاقہ مکینوں نے لاشوں کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاوٴس جانے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ ہاوٴس جانیوالے راستے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا۔ اس کے باوجود مظاہرین وزیراعلیٰ ہاوٴس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ مشتعل مظاہرین نے وزیراعلی ہاوٴس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ائیرکنڈیشنرمیں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو بتا نا چاہتے ہیں کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔ اس سے پہلے جب ان نوجوانوں کے جنازے نماز کی ادائیگی کے لئے گھروں سے نکلے تو دل ہلا دینے والے مناظر دیکھنے کو ملے۔ اہلخانہ کے ساتھ ساتھ اہل محلہ بھی شدت غم سے نڈھال تھے۔نماز جنازہ میں ایم کیو ایم کے وسیم آفتاب، روٴف صدیقی اور دیگر رہنماوٴں کے علاوہ سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ پی آئی بی کالونی میں بھی دو نوجوانوں مبین اور اظہر کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ علاقے میں سوگ کا سماں ہے اور خوف کے بادل منڈلارہے ہیں جبکہ پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔اغواء کے بعد تشدد کرکے ہلاک کیئے جانیوالے رضوان کی نماز جنازہ عیدگاہ گراوٴنڈ وحید آباد گلبہار میں ادا کی گئی جس میں ایم کیو ایم کے رہنماوٴں رضا ہارون ، مصطفیٰ کمال ، خالد عمر ، عبدالحسیب خان اور حماد صدیقی سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد رضوان کے اہلخانہ نے لاش کے ہمراہ پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے امن کے دعوے صرف خواب ہیں۔ حکومت خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرے۔