تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
20 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:26

کراچی میں مزید5افراد ہلاک،4دن میں ہلاکتیں77ہو گئیں

جنگ نیوز -


کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی کے اولڈ سٹی ایریا سے شروع ہونے والی بدامنی کی نئی طرز کی لہر نے کراچی کے مختلف علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ موت کا کھیل آج چوتھے روز بھی جاری ہے۔ تازہ واقعات میں مزید پانچ افراد ہلاک 12 زخمی ہوگئے جبکہ 4دنوں میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد77ہوگئی۔ کراچی میں لیاری کے پانچ نوجوانوں کے اغواء اور قتل کے بعد شروع ہونے والی بدامنی اور دہشت گردی کی لہر آج بھی نہ تھم سکی۔ فائرنگ اور تشدد کے تازہ واقعات نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا، اورنگی اور پاک کالونی سمیت مختلف علاقوں میں ہوئے۔اورنگی میں ایدھی ایمبولنس پر فائرنگ کی گئی۔ جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ کورنگی اور سہراب گوٹھ میں منی بسوں پر فائرنگ کی گئی۔کورنگی میں ڈی آئی جی ایسٹ کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں۔ کراچی میں بدامنی کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ تاہم نئی اور مختلف نوعیت کی نئی لہر بدھ 17 اگست کو شروع ہوئی جب طارق روڈ، صدر سولجر بازار، کھارادر اور اولڈ سٹی ایریا کے دیگر علاقوں میں فائرنگ، دستی بموں اور راکٹوں کے حملوں سمیت دہشت گردی میں پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی واجہ احمد کرم داد سمیت 16 افراد ہلاک 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ اس کے اگلے روز 18 اگست کو دہشت گردی کی جوابی طرز کی کارروائی میں شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو اغواء کرکے تشدد کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔ ان کی ہاتھ پاوٴں بندھی بوری بند لاشیں اولڈ سٹی ایریا، لیاری، پاک کالونی، شیر شاہ سمیت مختلف علاقوں سے ملیں۔ بیشتر مقتولین کے سر تن سے جدا تھے۔ زیادہ تر لاشوں کے ساتھ ملنے والی دھمکیوں کی پرچی پر ایک ہی عبارت درج تھی۔امن چاہتے ہو یا جنگ، یہ کافی ہے یا اور بھیجیں۔یہ وارننگ کس کے لئے تھی کچھ پتہ نہیں چل سکا، شاید سمجھنے والے سمجھ گئے اور شاید انہیں بھی امن درکا نہیں تھا۔۔ یہی وجہ تھی کہ 19 اگست کو بھی بد امنی نہ رک سکی۔ قتل کئے گئے بیشتر افراد کی لاشیں شہر کے مختلف علاقوں میں ان کے گھروں میں پہنچیں توعوامی رد عمل انتہائی شدید ہوگیا۔ ہنگامہ آرائی اور جلاوٴ گھیراوٴ کے ساتھ ساتھ فائرنگ اور پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اورنگی کے علاقے چکرا گوٹھ اور پی آئی بی کالونی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں مقیم مختلف خاندانوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے بے دخلی کی وارننگ دی گئی تو کشیدگی بڑھ گئی۔ فائرنگ اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد اندورن سندھ سے بھی پولیس کی نفری کراچی پہنچی۔ ان کی گاری پر کورنگی نمبر ڈھائی پر دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظارین کے قریب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ کراچی میں جمعہ 19 اگست کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی موجودگی اور امن کے لئے کوششوں کے باوجود فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک 45 زخمی ہوگئے۔شہر میں صورتحال مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ بدامنی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بعد پولیس کو ریڈالرٹ کردیا گیا اور پولیس اہلکاروں کے سنگل گشت پر بھی پابندی لگادی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.