21 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:11
اناہزارے کے مجوزہ لوک بل کی ڈیڈ لائن پر اراکین پارلیمنٹ کی تنقید
جنگ نیوز -
ممبئی…بھارتی سول سوسائٹی نے وزیراعظم منموہن سنگھ پرزوردیا ہے کہ وہ پارلے منٹ کامشترکہ اجلاس بلا کرجان لوک پال بل پربحث کرائیں جبکہ حکومت میں شامل جماعتوں کے ارکان نے انا ہزارے کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ وہ پورے بھارت کی نمائندگی نہیں کرتے۔دہلی کے رام لیلا میدان میں جہاں سماجی رہنمااناہزارے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہیں ان کے قریبی ساتھی سابق سینئرپولیس آفیسرکرن بیدی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ان کاکہناتھا کہ سول سوسائٹی کے تجویزکردہ جان لوک پال بل پرپارلے منٹ کامشترکااجلاس بلا کربحث کرائی جائے۔ادھر حکمراں کانگریس کے اتحادیوں کے صبرکاپیمانہ لبریزہوگیا ہے۔اترپردیش اسمبلی کے رکن ویربہادرسنگھ نے کہاہے کہ ریاست اترپردیش میں حکومت کاتیارکردہ انسدادکرپشن بل متعارف کرایا جارہاہے۔انا کی آوازکروڑوں افرادکی آوازنہیں ہے۔بھارت کی وزیراطلاعات ونشریات امبیکا سونی کا کہنا ہے کہ حکومت ڈائیلاگ پریقین رکھتی ہے اورلوک پال بل پرمشاورت جاری ہے۔دوسری جانب بھارت کے مختلف شہروں میں اناہزارے کی حمایت میں صبح سے رات گئے تک ریلیاں نکالی گئیں۔کہیں اسٹریٹ تھیٹر کیا گیا توکہیں انسانی ہاتھوں کی زنجیربنائی گئی اورمشعلیں جلائی گئیں۔ان تمام لوگوں کاایک ہی مطالبہ تھا کہ بھارت میں سیاست کوکرپشن سے پاک کیا جائے۔