22 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:42
بدین:ریلیف کیمپوں میں متاثرین کی تعدادایک لاکھ40ہزار ہوگئی
جنگ نیوز -
بدین…ضلع بدین میں تاحال 10 لاکھ متاثرین سڑکوں کے کنارے یا سیم نالوں کے پشتوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہیں ضلع بھر میں پینے کے پانی کی قلت نے سیکڑوں دیہات کے بعد اب شہری علاقوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا جبکہ ریلیف کیمپوں میں صورتحال بہتر نہیں ہوسکی ہے۔طوفانی بارشوں میں آفت زدہ قرار دئے گئے ضلع بدین کے ریلیف کیمپوں میں متاثرین کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے ،سرکاری اعداد شمار کے مطابق 400 ریلیف کیمپوں میں متاثرین کی تعدادایک لاکھ 40 ہزارسے تجاوز کر گئی سرکاری ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ دس لاکھ ایسے ہیں جو بارش کے پانی میں گھروں میں محصور ہیں یا پھرنہروں اور سیم نالوں کے پشتوں پر پناہ لئے ہوئے ہیں ،طوفانی بارشوں کے بعدعلاقہ میں پانی کی قلت نے شہری آبادیوں کو بھی متاثر کیا ہے، بدین میں تالابوں میں پانی کیذخائر ختم ہوگئے جس سے کئی علاقوں میں فراہمی آب معطل ہے اورلوگ برتن اٹھائے پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ریلیف کیمپوں میں صورتحال سنگین ہے شہری علاقوں میں قائم کیمپوں میں خوراک کی فراہمی جاری ہے لیکن متاثرین خوراک کی فراہمی کو ناکافی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں قائم ریلیف کیمپوں کے متاثرین نے شکایت کی ہے کہ ان کو ملنے والا سامان قطعی ناکافی ہے۔ ڈی سی او بدین کا کہنا ہے کہ ایل بی او ڈی میں پانی کا بہاوٴ سولہ فٹ سے کم ہوکر پندرہ فٹ ہوا ہے تاہم صورتحال بدستور خراب ہے کیونکہ متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں میں جلد اور پیٹ کے امراض پھیل رہے ہیں۔