11 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:17
فٹبالر لال محمد بلوچ علاج کی رقم کے انتظار میں ہی انتقال کرگئے
جنگ نیوز -
کراچی…شکیل یامین کانگا… پاکستان کے سابق انٹرنیشنل فٹ بالر لال محمد بلوچ صوبائی وزیر رفیق انجینئر کی جانب سے علاج پر آنے والے رقم دینے کے وعدے کے حصول اپنی جان سے گزر گئے۔ گزشتہ سال لال محمد بلوچ کے جناح اسپتال میں بائی پاس کے موقع پر رفیق انجینئر نے ان سے ملاقات کی تھی اور علاج پر آنے والی رقم کی ادائیگی کیلئے فائل بنوا کر اپنی وزارت منگوالی تھی لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود لال محمد وزیراعلی ہاؤس اور سندھ سندھ سیکرٹریٹ کے چکر لگانے کے باوجود رقم کے حصول میں ناکام رہے تھے۔ ہفتہ (10 ستمبر 2011ء) کو لال محمد پہلے وزیراعلی ہاؤس اور پھر سندھ سیکرٹریٹ رفیق انجینئر کے دفتر گئے جہاں انہیں ایک ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، صدے میں سے وہ سیکرٹریٹ کے باہر گئے اور دو گھنٹے تک وہیں پڑے رہے، ان کے بیٹے کو اطلاع دی گئی لیکن وہ اسپتال لیجانے سے قبل وہ انتقال کرچکے تھے۔ ان کی تدفین مواچھ گوٹھ قبرستان تدفین ہوئی۔ ان کی عمر 65 سال تھی۔ انہوں نے چار بیٹیاں اور سات بیٹے اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔ لال محمد سے سندھ کے صوبائی وزیر رفیق انجینئر نے بائی پاس آپریشن سے قبل علاج پر آنے والے خرچ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لال محمد بنائی گئی فائل وزیر کے حوالے کرکے رقم کے حصول کیلئے گزشتہ کئی ماہ سے وزیراعلی ہاؤس اور سندھ سیکرٹریٹ کے چکر لگا رہے تھے۔ جنگ نے متعدد بار صوبائی وزیر رفیق انجنیئر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا فون بند تھا۔