15 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 20:23
آئی ایم ایف کے موجودہ اسٹینڈ بائی پروگرام میں توسیع نہ لینے پر غور
جنگ نیوز -
اسلام آباد…پاکستان کا آئی ایم ایف سے چھٹکارا پانے پر غورکیا جارہا ہے اور موجودہ اسٹینڈ بائی پروگرام میں توسیع نہ لینے کا امکان ہے ، جس کے بعد ساڑھے تین ارب ڈالر کی باقی دو قسطیں پاکستان کو نہیں ملیں گی۔پاکستان آئی ایم ایف سے فوری طور پر نیا پروگرام نہ لینے پر بھی غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ23 سے 25ستمبر تک پاک،آئی ایم ایف مذاکرات میں ہوگا۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے جیو نیوز کوبتایا کہ اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے موجودہ پروگرام میں توسیع اور نیا پروگرام بھی نہ لے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی معیشت یکم اکتوبر سے آئی ایم ایف کے براہ راست پروگرام سے نکل جائیگی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق موجود ہ پروگرام کے کامیاب اختتام پر پاکستان کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی دو قسطیں قرض کے طور پر ملنا تھیں جو نہیں مل سکیں گی۔اس کے علاوہ پاکستان آئی ایم ایف سے 5 سے7 ارب ڈالرکا نیا پروگرام بھی نہ لینے پر غور کر رہا ہے۔اس فیصلے سے موجودہ حکومت 2012میں معاشی فیصلے الیکشن کو مد نظر رکھ کرسکے گی اور سبسڈیز کی تقسیم، بینکوں سے قرضوں کا حصول اور مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر فروری 2012 اور جون 2012 میںآ ئی ایم ایف کی قسطیں ادا کرنے کے لیے کافی ہیں جبکہ حکومت تیل سعودی عرب اور ایران سے ادھارلینے پر غور کر سکتی ہے۔ پاک آئی ایم ایف مذاکرات23 سے 25ستمبر تک واشنگٹن میں ہوں گے جس میں وزیر خزانہ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری اقتصادی امور، چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک شرکت کریں گے یہ وفد اتوار کو واشنگٹن روانہ ہوجائیگا۔