تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
16 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 7:8

یمن اور صومالیہ میں کارروائی پر اوباما انتظامیہ تقسیم ہوگئی،رپورٹ

جنگ نیوز -


کراچی…رفیق مانگٹ…یمن اور صومالیہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی پر اوباما انتظامیہ کی قانونی ٹیم تقسیم ہو گئی۔محکمہ خارجہ اور پنٹاگون میں اس خطے پرمہلک فورس کے استعمال پر بھی شدید اختلافات سامنے آئے ہیں کہ وہاں ڈرون حملوں ، کروز میزائلوں یا کمانڈو ایکشن کیا جائے۔پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ کو یمن اور صومالیہ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔امریکی اخبار’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق یمن اور صومالیہ میں اسلامی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لئے اوباما انتظامیہ کی قانونی ٹیم اس بات پر تقسیم ہو گئی کہ امریکا کو کس حد تک کارروائی کرنی چاہیے۔اوباما انتظامیہ اور امریکی کانگریس کے حکام کے مطابق یہ سوال القاعدہ اور اس کے اتحادی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کی حدود کا تعین اور وضاحت کرسکتا ہے۔حکام کے مطابق یہ بحث اس نکتے پر مرکوز ہے کہ امریکاعسکریت پسند گروہوں کے اعلی سطحی رہنماوٴں کے خلاف کارروائی کرے جو امریکا پر حملوں کی سازش میں ملوث ہیں یا مقامی سطح کے نچلے درجے کے تمام عسکریت پسندوں کے خلاف بھی ایکشن لے جو خلیج عدن کے نواح میں غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔امریکی حکام میں خطے میں مہلک فورس کے استعمال پر اختلافات بھی سامنے آئے کہ وہاں ڈرون حملوں ، کروز میزائلوں یا کمانڈو ایکشن کیا جائے۔امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے درمیان یہ تنازع ایک ماہ سے جاری ہے اور تاحال ان پر اختلاف موجود ہے۔موجودہ انتظامی پالیسی یہ ہے کہ علاقے میں صرف ’ہائی ویلیو‘ افراد کو نشانہ بنایا جائے لیکن اس سوال کا تا حال کو ئی جواب نہیں ہے کہ امریکا یمن اور صومالیہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائی کر پائے گا ،اس کا جواب صرف اسی صورت میں ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگی حکمت عملی کو تبدیل کرکے صومالیہ اور یمن کی طرف منتقل کیا جائے کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کمزور ہو رہی ہے۔اسامہ کی ہلاکت اور قبائلی علاقوں میں ڈرونز حملوں سے یہ دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔افغانستان ا ور پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی پر امریکی انتظامیہ کی قانونی ٹیم میں کوئی اختلاف نہیں۔

صفحات

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.