16 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:19
القاعدہ کے آپریشن چیف الشاہری کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ… پاکستان سے القاعدہ کے اہم رہنما اور آپریشن چیف سعودی نژاد ابو ہفس الشاہری کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے انہیں اس کی ہلاکت کا علم نہیں۔افغان سرحد کے ساتھ قبائلی علاقے میں انٹیلی جنس ذرائع نے بھی ابو ہفس الشاہری کی ہلاکت کے بارے لاعلمی کا اظہار کیا ہے،تاہم امریکا نے اس کی تفصیلی بتانے سے انکار کردیا ہے ۔ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق اتوار کی شام کوشمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں القاعدہ لیڈر کو ہلاک کیا گیا، خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تحصیل میر علی میں شہر سے تین کلومیٹر دور جنوب کی جانب عیسیٰ خیل میں ایک گاڑی کو امریکی جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ایک غیر مْلکی سمیت دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک غیرملکی عرب اور ایک مقامی شخص شامل ہیں جن کا تعلق افغان کمانڈر جلال الدین حقانی گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ یہ گاڑی اتوار کی شام میرعلی بازار کی جانب سے عیسیٰ خیل کی طرف جا رہی تھی کہ راستے میں امریکی جاسوس طیارے نے نشانہ بنایا گاڑی کے ساتھ لاشیں بھی مکمل طور پر جل گئی تھیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والا دوسرا شخص حفیظ اللہ (ر) ڈپٹی کمشنر لائق الرحمان کا بھائی اور مرحوم اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لْطف الرحمان کا بھتیجا بتایا جاتا ہے۔ حفیظ اللہ میرعلی میں حقانی گروپ کا ایک کمانڈر تھا اور ان کا تعلق زیادہ تر غیرملکیوں سے رہتا تھا۔بعد میں مقامی طالبان دو تین گاڑیوں میں آئے اور انہوں نے سفید کپڑے میں لپیٹ کر لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔تین ہفتے قبل امریکی حکام نے القاعدہ کے ‘چیف آف آپریشنز’ بتائے جانے والے شخص عطیہ عبدالرحمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔