18 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 8:18
سیلاب سے متاثرہ سندھ کے بیشتر دیہات کا زمینی رابطہ منقطع
جنگ نیوز -
کراچی…سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کئی روز سے سیلابی پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے بازار اور مارکیٹیں بند ہیں اور لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔جبکہ کئی دیہاتوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہے ،ادھر بدین میں مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں نے ایل بی او ڈی کے پشتے مکمل طور پر ختم کردیے ہیں۔دادو کے علاقے کا چھو کے سیکڑوں دیہات کا بارشوں اور سیم نالوں کا پانی کھڑا ہونے کے باعث ساتویں روز بھی دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔رابطہ سڑکیں پانی میں ڈوبی ہونے کی وجہ سے متاثرین کھانے پینے کی اشیا کے لئے جوہی تک پیدل سفر کرنے پرمجبورہیں۔بدین کے ایل بی او ڈی میں بہنے والے سیلابی ریلوں نے درجنوں ملحقہ دیہات کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں نے ایل بی او ڈی کے پشتوں کو مکمل ختم کردیا ہے۔کئی مقامات پر رابطہ پل بھی بہہ گئے اور زمینی رابطے بھی منقطع ہیں پنگریو ،ملکانی شریف شہروں سمیت درجنوں دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں 30روز سے بجلی کی سپلائی بھی معطل ہے۔جھڈو کے بازاروں اور گلی محلوں میں پانی موجود ہے۔انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک پانی کی نکاسی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔نیوی چک،بلوچک ،سنگلر چک سمیت دیہات میں ہزاروں افراد پھنسے ہیں۔سانگھڑ میں سیلابی پانی اب بھی کھڑا ہے جس کی وجہ سے مچھر کی بہتات ہوگئی اورملیریا کی بیماری پھیل رہی ہے،ضلع بھر کے بیشتر شہروں میں دکانیں اور بازار بند ہیں جس سے مقامی لوگوں کو معاشی پریشانی کاسامنا ہے۔خیرپور کے دیہی علاقوں میں بارشوں اور سیم نالوں کا پانی سے کپاس اور گنے کی فصلیں مکمل تباہ ہوگئی ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی نہیں کی گئی تو گندم کی فصل کاشت نہیں ہو پائی گی۔ادھر فصل تباہ ہونے کے باعث سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مارکیٹ میں سبزیا ں کم آرہی ہیں۔فیض گنج اور نارا تحصیلوں میں بھی پانی کھڑا ہے جس سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔