تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
18 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 18:33

ڈینگی کی وبا سے ایک ماہ میں نجات حاصل کی جاسکتی ہے،جامعہ کراچی

جنگ نیوز -


کراچی … جامعہ کراچی کے اساتذہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈینگی کی وبا سے ایک ماہ میں نجات حاصل کی جاسکتی ہے ، جبکہ نینو سینسر کی مدد سے ڈینگی وائرس کی تشخیص صرف آدھے گھنٹے کے اندر سو روپے میں کی جا سکتی ہے۔پاکستان میں ڈینگی مچھر کوئی نیا نہیں ،جامعہ کراچی میں ہونیوالی تحقیق کے مطابق یہ مچھر قیام پاکستان سے قبل ہی کراچی، لاہور اور دیگر علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر جمیل کاظمی کی زیر نگرانی تحقیق کرنیوالی اسسٹنٹ پروفیسرصائمہ شیخ کا کہنا ہے کہ دراصل یہ مچھر صرف اس وائرس کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنیکا ذریعہ ہیں ۔نارمل مچھر سے سائز میں بڑا ، نارمل مچھر وہ مچھر کہلاتے ہیں جو ملیریا اور یلو فیور کو کیری کرتے ہیں۔پروفیسر جمیل کاظمی کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں سیٹلائٹ اور جیو انفارمیشن سسٹم کے تحت اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ شیخ اور صفدر علی شیرازی نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق مچھروں کے خلاف تحریک چلانے کے بجائے اس وبا پر قابو پانے کیلئے اس کی اصل وجہ کی جانب توجہ دینی ہوگی۔جامعہ کراچی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ انیس سو چورانوے میں یہ وائرس بنگلہ دیشی مزدوروں کے ذریعے کراچی اور پھر ویندر میں پھیلا اور اس کے بعد ہوائی جہاز ، بسوں اور ریل کے ذریعے ملک کے دیگر شہروں میں پھیلا،اگر اس وقت مناسب حکمت عملی تیار کرلی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی مچھروں کی افزائش نسل کو روکنے کے لیے چھتوں پر بننے والے ٹینکوں ، واٹر کولر، ٹوائلٹ فلش کو اچھی طرح کپڑے سے سیل کردیا جائے تو یہ مچھر وہاں انڈے نہیں دے سکیں گے ،کولمبو اور انڈیا میں یہ قانون ہے کہ اگر اوور ہیڈ ٹینک میں کپڑا نہ باندھا جائے تو جرمانہ ہے،ڈاکٹر جمیل کاظمی کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے انیس سو تہتر اور سال دوہزار نو میں لاہور میں آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب کی وجہ سے ہریالی میں کمی آئی ہے۔ انسانوں نے مچھروں کے مسکن ختم کردیئے ہیں جب ان کو اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پھل ، پھول اور ہریالی نہیں ملتے تو وہ پروٹین کی تلاش میں انسانی خون پیتے ہیں۔اسی طرح کراچی میں بھی صدر ٹاون اور ایسے گنجان آباد علاقے جہاں سبزہ نہیں ہے وہ زیادہ رسک ایریاز ہیں ۔ جمیل کاظمی کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹارگٹ سرویلنس ، ویکٹر سرویلنس کرنی ہے انشاء اللہ ایک ماہ میں پاکسانی سائنس داں اس پر قابو پاسکتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے محقق کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس کی تشخیص کے لیے نینو سینسر کا استعمال سب سے بہترین ہے جس کی مدد سے صرف آدھے گھنٹے کے اندر سو روپے میں اس وائرس کی تشخیص کی جاسکتی ہے ۔جامعہ کراچی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ بہتر حکمت عملی اور تحقیق پر عمل کرکے ڈینگی وائرس کے اس وبا پر باآسانی ایک ماہ میں قابو پایا جاسکتا ہے ۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.