تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
22 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 9:59

سندھ :سیلاب متاثرین امداد کے منتظر، بیماریوں سے مزید دو افراد جاں بحق

جنگ نیوز -


میرپورخاص…سندھ میں سیلاب کے بعد وبائی امراض پھیلنے کا سلسلہ جاری ہے ،میرپور خاص کی تحصیل جھڈو اور دادو کے علاقے کاچھو میں پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ادھر بدین کی نصیر واہ کینال میں سیلابی ریلے کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تحصیل جھڈو کینواحی گاوٴں آہوری میں پیٹ کے مرض میں مبتلا 8سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔ حیات خاصخیلی کے علاقے میں پانی جمع ہونے سے دکانیں اوربازار ایک ماہ سے بند ہیں جس سے لوگ معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں۔نوکوٹ گرڈ اسٹیشن گزشتہ 15روز سے زیر آب ہے اورملحقہ سیکڑوں دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔دادو میں کاچھو کے گاوٴں جام ببرمیں پیٹ کے مرض میں مبتلا 35سالہ شخص جاں بحق ہوگیا ہے۔6روز کے دوران پیٹ کے امراض میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 9ہوگئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے کاچھو میں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد شروع نہیں کی جس سے سیکڑوں افراد پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ضلع بدین کے پنگریو ،ملکانی،خیرپور گمبو،سمیت درجنوں چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں پانی کی سطح میں کمی نہیں ہوئی،نصیر واہ کینال کے ذریعے ٹنڈو باگو کی یونین کونسل ڈا ڈا میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کی سطح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹنڈو الہ یار اور ملحقہ دیہاتوں کے بااثر زمیندار نصیر کینال کے پشتے کاٹ کر زرعی اراضی کا پانی خارج کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں نصیر کینال اور ان سے نکلنے والی دیگر نہروں میں شگاف پڑ رہے ہیں اورملحقہ دیہاتوں میں مزید سیلابی ریلے داخل ہورہے ہیں۔خیرپور کی تحصیلوں فیض گنج اور نارا کے سیکڑوں دیہات بارش کے پانی میں گھرے ہوئے ہیں اورسڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔کئی مقامات پر رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں جس کی وجہ سے غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.