23 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 10:26
حقانی گروپ سے رابطے ہوتے تو ہمارے جنرل پر حملہ نہ ہوتا، احمد مختار
جنگ نیوز - وفاقی وزیر داخلہ احمد کا کہنا ہے کہ گرٹارگٹ ایک ہواور ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے لیے تیار ہیں،وزیر دفاع احمد مختار نے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کے ہیڈآفس کا دورہ کیااس موقع پر اے ایس ایف کے اہلکاروں نے وزیر دفاع کو سلامی دی۔۔ اے ایس ایف کے اہلکاروں نے پیشہ وارانہ صلاحتیوں کا بھی مظاہرہ کیا۔۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کابل حملے میں مائیک مولن کاپاکستان کے ملوث ہونیکا بیان حقائق کے منافی ہے۔۔احمد مختار نے کہا کہ سرحدی علاقے میں کچھ روز قبل ہمارے جنرل پر فائرنگ ہوئی اگر حقانی نیٹ ورک کیساتھ رابطے ہوتے توہمارے جنرل پر حملہ نہ ہوتا،لگتا ہے امریکی فوج اور امریکی حکومت کی سوچ الگ ہے وزیرخارجہ حناربانی کھر ان دنوں میں امریکا میں ہیں ان کو اس قسم کی کوئی بات نہیں کی گئی، جس طرح کی بات امریکی جنرل کررہے ہیں،امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، احمد مختار نے سوال کیا کہ امریکا پاکستان میں براہ راست کارروائی کے ذریعے کیا چاہتا ہے۔۔اگرٹارگٹ ایک ہواور ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔