24 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 3:27
کے ای ایس سی ،سوئی سدرن گیس تنازعہ:شہریوں کی زندگی عذاب
جنگ نیوز -
کراچی ... کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کے درمیان تنازعہ نے کراچی کے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے ، نہ دن کو چین نہ رات کو سکون۔ ایک آدھ گھنٹہ بجلی آئی اور پھر گھنٹوں غائب۔ اور قسمت سے آگئی تو وولٹیج غائب کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کے درمیان چند دن سے گیس کا تنازعہ طول پکڑ گیا ہے اور اس کا خمیازہ بگھتنا پڑ رہا ہے بیچارے کراچی کے شہریوں کو۔ وہ شہری جو بجلی کے بلوں کا بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں لیکن اف نہیں کرتے۔ہر گھنٹے کے بعددو گھنٹے اور بعض علاقوں میں آدھے گھنٹے کے بعد ڈھائی سے تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کراچی کے شہریوں پر مسلط کر دی گئی ہے ، لوگ کپڑے استری نہیں کرسکتے، پانی کے لیے موٹر نہیں چلا سکتے، بچے اسکول کا ہوم ورک کرنے کے لیے بجلی کا انتظار کرتے کرتے تھک کر سوجاتے ہیں ، فریج میں پڑا سامان خراب ہو جاتا ہے ،اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کے بجلی آتی بھی ہے تو پوریوولٹیج کے بغیر۔ گھروں میں لگے یو پی ایس بھی جواب دے جاتے ہیں۔ رہائشی علاقوں میں 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے بعد اب صنعتی علاقوں میں بھی 8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی ایسی اتھارٹی نہیں جو کے ای ایس سی اور گیس کمپنی کے ساتھ جاری تنازعے کا حل نکالے۔عوام کے چاروں طرف بجلی کے اندھیرے تو تھے ہی اب مایوسی کے اندھیرے بھی پھیل رہے ہیں ،عوام سوچتے ہیں کہ شکایت کریں تو کس سے کریں ، کوئی سننے والا بھی تو ہو۔ کے ای ایس سی کے ترجمان بس ایک ہی بات کہے جا رہے ہیں کہ انہیں گیس کم مل رہی ہے، لوڈشیڈنگ کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ گیس زیادہ ملے گی تو بجلی بھی زیادہ ملے گی ،کے ای ایس کا موقف اپنی جگہ لیکن کوئی اس بات کا بھی تو جواب دے کہ کراچی کے شہریوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہیں اس جھگڑے میں سینڈوچ کیوں بنایا جا رہا ہے ؟کراچی کے شہریوں پر لوڈشیڈنگ کا عذاب کئی گنا بڑھ گیا ۔